میں امریکہ میں رہ رہا ہوں، 2.5 سال قبل میری بیوی نے عدالت میں طلاق کی درخواست دائر کی تھی اور اس ماہ کے اندر عدالت اپنا فیصلہ سنائے گی،امریکی قانون کے مطابق، میری بیوی قانونی طور پر میرے 50 فیصد اثاثوں کا دعویٰ کرنے کی اہل ہے۔ ان اثاثوں میں میرا بینک اکاؤنٹ، شیئر اکاؤنٹ، اور ریٹائرمنٹ اکاؤنٹ شامل ہیں۔
1-میرا پہلا سوال یہ ہے کہ کیا یہ مال میری بیوی کے لیے اسلامی طور پر حلال ہوگا؟بچوں کی کفالت کے علاوہ، میری اہلیہ نے ماہانہ گزارے کے لیے بھی دعویٰ کیا ہے، جو امریکی قانون کے رہنما اصولوں سے بالاتر ہے
2۔ میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ ماہانہ رقم میری بیوی کے لیے اسلامی طور پر حلال ہے؟ میری بیوی کی والدہ اور اس کا بھائی اس کی مدد کر رہے ہیں کہ میری بیوی کو امریکی قانون کے مطابق رقم ملنی چاہیے۔
3-میرا تیسرا سوال یہ ہے کہ اسلام ان کی کوششوں کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔
4-اور میرا چوتھا اور آخری سوال یہ ہے کہ اگر عدالت میری بیوی کو طلاق کا حکم جاری کر دے تو کیا اسلام میں اسے طلاق سمجھا جائے گا؟ا ن سوالوں کو آسان بنانے کے لیے یہ مان لیں کہ میری بیوی کا کوئی قصور نہیں اور اس شادی کی ناکامی کی وجہ مکمل طور پر میں ہوں اور میری بیوی طلاق کا مطالبہ نہیں کر رہی بلکہ میں نے ہی عدالت میں علیحدگی کے لیے درخواست دائر کی ہے۔
سائل کی بیوی نے اگر عدالت میں خلع کے بجائے طلاق کی درخواست دائر کی ہو اور سائل یا اس کا مقرر کردہ وکیل عدالت میں حاضر ہو کر اس طلاق نامہ پر دستخط کر دے تو اس سے سائل کی بیوی پر طلاق نامہ میں درج طلاق واقع ہو جائے گی،اور عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی نیز طلاق کی صورت میں عورت صرف اپنے حق مہر کی حقدار ہوگی، اس کے علاوہ مقامی قانون کے مطابق شوہر کے مال میں سے آدھے حصہ کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں،جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے، البتہ بچے اگر والدہ کے پاس رہیں گے تو ان کی پرورش کے اخراجات شرعا سائل کے ذمہ اس کی استطاعت کے مطابق لازم ہوں گے۔
کما فی رد المحتار تحت : (قولہ طلقت بوصول الکتابۃ) أی الیھا (الی قولہ) ولو استکتب من آخر کتاباً بطلاقھا و قرأہ علی الزوج فأخذہ الزوج و ختمہ و عنونہ و بعث بہ الیھا فأتاہ و قع الخ ( کتاب الطلاق،ج 3،ص 246، ط: سعید)۔
وفی دررالحکام فی شرح مجلۃ الاحکام: لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي(المادة97)۔
وفی الدرالمختار: (وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير) الخ
وفی ردالمحتار تحت: (قوله الفقير) أي إن لم يبلغ حد الكسب الخ (ج3،ص612،ط: سعید)۔