گناہ و ناجائز

شوہر پسند نہ ہونے کی وجہ سے طلاق کا مطالبہ کرنا

فتوی نمبر :
77286
| تاریخ :
2024-08-10
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

شوہر پسند نہ ہونے کی وجہ سے طلاق کا مطالبہ کرنا

میری شادی کو ایک مہینہ ہوا ہے اور مجھے اپنا شوہر اچھا نہیں لگتا اور نہ ہی اس کا قریب آنا، میرے شوہر کی مجھ سے ایک ہی ڈیمانڈ ہے کہ ساری رات لگے رہے، جبکہ میری اتنی قوت نہیں ہے، مجھے اپنا شوہر ذہنی اور جسمانی طور پر قبول نہیں، اور اوپر سے ساری رات جنسی تعلق کی ڈیمانڈ ، مجھے یہ نکاح جاری رکھنا چاہیے یا پھر خاموشی سے پیچھے ہٹ جاؤں کیونکہ اس کی نہ مان کر میں اس پر گنہگار رہتی ہوں، براہ کرم ضرور اور جلد جواب دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ نے یہ نہیں لکھا کہ اس کا شوہر اسے کیوں اچھا نہیں لگتا، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اس کی اگر کوئی معقول وجہ نہ ہو اور بس ویسے ہی سائلہ کو اس کا شوہر ناپسند ہو، تو چونکہ یہ کوئی ایسا عذر نہیں کہ جس کی بنیاد پر سائلہ کو اس کے شوہر سے علیحدگی کی اجازت دی جائے، لہذا ایسی صورت میں سائلہ کو چاہئے کہ طلاق لینے یا گھر سے بھاگ جانے کے بجائے ہر ممکن نباؤ کی کوشش کرے، اور اللہ تعالی سے اس رشتے کی مضبوطی کی دعا بھی کرتی رہے، جبکہ سائلہ کے شوہر پر بھی لازم ہے، کہ وہ ہمبستری ودیگر امور میں اعتدال سے کام لے اور سائلہ کی صحت اور مزاج کا مکمل خیال رکھے، ورنہ سائلہ کا شوہر بھی سائلہ کی حق تلفی کی وجہ سے شرعاً گناہ گار ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالی: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا(سورۃ النساء آیۃ 19)۔
وفی احکام القرآن للجصاص: وقوله تعالى وعاشروهن بالمعروف أمر للأزواج بعشرة نسائهم بالمعروف ومن المعروف أن يوفيها حقها من المهر والنفقة والقسم وترك أذاها بالكلام الغليظ والإعراض عنها والميل إلى غيرها وترك العبوس والقطوب في وجهها بغير ذنب جرى مجرى ذلك نظير قوله تعالى فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان وقوله تعالى فإن كرهتموهن فعسى أن تكرهوا شيئا ويجعل الله فيه خيرا كثيرا يدل على أنه مندوب إلى إمساكها مع كراهته لها وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم ما يوافق معنى ذلك حدثنا محمد بن بكر قال حدثنا أبو داود قال حدثنا كثير بن عبيد قال حدثنا محمد بن خالد عن معروف بن واصل عن محارب بن دثار عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال أبغض الحلال إلى الله تعالى الطلاق ، وحدثنا عبد الباقي بن قانع قال حدثنا محمد بن خالد بن يزيد النيلي قال حدثنا مهلب بن العلاء قال حدثنا شعيب بن بيان عن عمران القطان عن قتادة عن أبي تميمة الهجيمي عن أبي موسى الأشعري قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم تزوجوا ولا تطلقوا فإن الله لا يحب الذواقين والذواقات۔فهذا القول من النبي صلى الله عليه وسلم موافق لما دلت عليه الآية من كراهة الطلاق والندب إلى الإمساك بالمعروف مع كراهته لها وأخبر الله تعالى أن الخيرة ربما كانت لنا في الصبر على ما نكره الخ( ج 2 ص 109 ط: سہیل اکیڈمی)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حمزہ منان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77286کی تصدیق کریں
0     711
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات