السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !
محترم !اس وقت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات شروع ہیں، اس حوالے سے ایک سوال تھا کہ پچھلے قومی انتخابات میں سائل ایک پارٹی کا پولنگ ایجنٹ تھا اور اپنے پولنگ اسٹیشن پر تمام پارٹیوں کے پولنگ ایجنٹس سمیت ہم نے ایمانداری اور بھائی چارے سے بہت صاف شفاف پولنگ کروائی اور سب نے اپنا فارم 45 حاصل کیا۔ جس کے نتیجے میں سائل کی جماعت تقریباً 100ووٹوں سے یہ پولنگ اسٹیشن ہار گئی اور ہمارے علاقے کے اکثر پولنگ اسٹیشنز اس رات کو ہماری جماعت ہار رہی تھی۔ مگر جب فائنل رزلٹ آیا تو ہماری جماعت جیت چکی تھی۔ جب سائل نے الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ سے اپنے پولنگ اسٹیشن کا رزلٹ فارم 45 کی صورت میں دیکھا تو وہ جعلی بنا ہوا تھا اور اس کے مطابق ہماری پارٹی کو تقریباً 330 ووٹوں سے کامیاب کروایا گیا۔ اور مجموعی طور پر ہمارا امید وار جیت کر ممبر اسمبلی منتخب ہوا۔ اب یہ حالات دیکھ کر سائل نے ٹھان لی کہ بطور پولنگ ایجنٹس ڈیوٹی کرنے اور رزلٹ کی تحقیق کے بعد سائل نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ کم از کم اس حکومت اور خصوصاً اپنے حلقے کے ایم این اے کےہوتے ہوئے اپنی جماعت کو بلدیاتی انتخابات میں سپورٹ نہیں کروں گا، کیونکہ ان امیدواران کی سربراہی وہی ایم این اے صاحب کر رہے ہیں جو خود اس مرتبہ کہ اہل نہیں ہیں۔
اب سائل کا سوال یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں کچھ اچھے مراسم والے لوگ بھی اس جماعت کی طرف سے امیدوار ہیں، مگر سائل اوپر بیان کردہ وجوہات کی بنا پر بلدیاتی الیکشن میں اپنی جماعت کو سپورٹ و ووٹ نہیں کرنا چاہتا۔ کیا اس بنا پرسائل کا اپنی جماعت کو نہ سپورٹ کرنے کا فیصلہ شرعاً درست ہے؟ مہربانی کر کے اگر کوئی تحریری جواب عنایت فرما دیں تو سائل پر آپ کی نوازش ہو گی۔ اللہ پاک آپ ہم سب کو دین پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے، آمین
واضح ہوکہ شرعاً ووٹ ایک شہادت (گواہی) اور امانت ہے، اور اس کا صحیح محل وہی شخص ہے جو امانت، دیانت، اہلیت اور عدل کے اعتبار سے زیادہ موزوں ہو۔ قرآن کریم میں ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا﴾(النساء: 58)
ترجمہ: اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے سپرد کرو۔
اور گواہی کے بارے میں فرمایا:
﴿وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ﴾(الطلاق: 2)
ترجمہ: اور گواہی اللہ کے لیے قائم کرو۔
لہٰذا ووٹ دیتے وقت بنیادی معیار جماعت نہیں، بلکہ امیدوار کی اہلیت، دیانت اور امانت ہے۔اگر کسی جماعت یا اس کے ذمہ داران کی طرف سے دھوکے، جعل سازی یا امانت میں خیانت کے ایسے شواہد سامنے آ جائیں جن کی بنا پر سائل کو یہ اطمینان نہ رہے کہ اس جماعت کے زیرِ انتظام دیانت دارانہ نظام قائم رہے گا، تو ایسی صورت میں سائل کا اس جماعت کو ووٹ نہ دینا شرعاً درست ہے، کیونکہ ووٹ امانت ہے اور امانت ایک ایسے شخص یاجماعت کے سپرد کرنا درست نہیں ہوتی جس پر اعتماد نہ رہے۔
البتہ اس کے ساتھ یہ بھی ملحوظ رہے کہ سائل کے سامنے موجود دیگر امیدواروں کا تقابل کیا جائے اور ان میں جو شخص دیانت، اہلیت اور خیرِ عامہ کے زیادہ قریب ہو، ووٹ اسی کو دیا جائے؛ کیونکہ شرعاً ووٹ بالکل ترک کر دینا بھی مناسب نہیں، اور اگر مجبوراً انتخاب کرنا ہو تو "کم ضرر" والے کو فوقیت دینا درست ہے۔پس صورتِ مسئولہ میں سائل کا اپنی جماعت کو نہ سپورٹ کرنے کا فیصلہ، مذکورہ حالات اور شواہد کی بنا پر، شرعاً درست اورجائزہے،بشرطیکہ وہ اپنے ووٹ کو زیادہ اہل اور دیانت دار امیدوار کے حق میں استعمال کرے۔
کما فی تفسیر مقاتل بن سلیمان : فلا تكتموا الشهادة، قال: (وَمَنْ يَكْتُمْها) ولا يشهد بها عند الحاكم فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ وَاللَّهُ بِما تَعْمَلُونَ من كتمان الشهادة وإقامتها عَلِيمٌ إلخ(سورۃ البقرۃ، ج 1، ص 231، ط: دار احیاء التراث العربی)-
وفی تفسیر الطبری جامع البیان: 6454 - حدثنا يعقوب قال، حدثنا هشيم قال، أخبرنا يزيد بن أبي زياد، عن مقسم، عن ابن عباس أنه قال في هذه الآية،"وإنْ تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه يحاسبكم به الله"، قال: نزلت في كتمان الشهادة وإقامتها. 6455 :حدثني يحيى بن أبي طالب قال، أخبرنا يزيد قال، أخبرنا جويبر، عن عكرمة في قوله:"وإن تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه يحاسبكم به الله"، يعني: كتمان الشهادة وإقامتها على وجهها إلخ (ج 6، ص 103، ط: دار التربیۃ والتراث)-
وفی تفسیر المظھری: وعن ابى موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم قال من كتم شهادة إذا دعى إليها كان كمن شهد بالزور رواه الطبراني في الكبير والأوسط وفي سنده عبد الله بن صالح كاتب ليث احتج به البخاري ((مسئلة)) إذا دعى الشاهد الى مجلس الحاكم كى يؤدى شهادته قيل يلزم ذلك إذا كان مجلس القاضي قريبا فان كان بعيدا فلا لقوله تعالى وَلا يُضَارَّ كاتِبٌ وَلا شَهِيدٌ- وعن نصر ان كان بحال يمكنه الرجوع الى اهله فى يومه يجب لانه لا ضرر عليه ((مسئلة)) لو كان الشاهد شيخا فاركبه الطالب على دابته فلا بأس به- وعن سليمان فيمن اخرج الشهود الى ضيعه فاستأجر لهم حميرا فركبوها لا يقبل شهادتهم- وفصّل في النوازل بين كون الشاهد شيخا لا يقدر على المشي ولا يجد ما يستاجر به دابة فيقبل وما ليس كذلك فلا يقبل- قال ابن همام وفيه نظر لان إكرام الشهود مأموربه إلخ(ج 1، ص: 429، ط: مکتبۃ الرشیدیۃ)-
وفی مسند الشامیین للطبرانی: 1942 - حدّثنا بكر بن سهل، ثنا عبد اللّه بن صالح، حدّثني معاوية بن صالح، عن مكحول الدّمشقيّ، عن أبي هريرة، عن النّبي صلى الله عليه وسلم قال: «من كتم شهادة إذا دعي إليها فهو كَمن شهد بالزور» (رقم 1942، ج 3، ص 134، ط: مؤسسۃ الرسالۃ)-
وفی الأشباہ النظائر لإبن نجیم: كتمان الشّهادة كبيرة ويحرم التّأخير بعد الطّلب إلا في مسائلَ إلخ(ص 194، ط: دار الکتب العمیۃ)-
وفی المبسوط للسرخسی: ونهيا عن كِتمان الشّهادة الّتي تتضمّن إبطال حقّ المسلِم فالطّريق الّذي يعتدل فيه النّظر من الجانبين هذا إلخ(ج 9، ص 146، ط: دار المعرفۃ)-
وفی البنایۃ فی شرح الھدایۃ: كتاب الشهادة قال: الشهادة فرض تلزم الشهود ولا يسعهم كتمانها إذا طالبهم المدعي لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا} [البقرة: 282] (البقرة الآية: 282)، وقَوْله تَعَالَى: {وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ} [البقرة: 283] م: (البقرة الآية: 283) م: (قال) ش: أي القدوري رحمه الله م: (الشهادة فرض) ش: أي أداؤها وتحملها إذا تعين، وفرض كفاية إذا لم يتعين بالإجماع م: (تلزم الشهود، ولا يسعهم كتمانها إذا طالبهم المدعي) ش: وقوله: لا يسعهم، تأكيد لقوله يلزم الشهود م:(لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا} [البقرة: 282] ش: (البقرة الآية: 282) هذا دليل على أن الطلب من المدعي شرط الفريضة، والنهي عن الإباء عند الدعوى أمر بالحضور للأداء. م:(وقَوْله تَعَالَى: {وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ}[البقرة: 283] ش:(البقرة الآية: 283)، إنما خص القلب، وإن كانت الجملة آثمة؛ لأنه رأس الأعضاء والمضغة التي إن صلحت، صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد كله. كما جاء في الحديث؛ لأنه قيل قد تمكن الإثم في أصله، وملك أشرف شيء منه، ولأن أفعال القلوب أعظم من سائر الجوارح، فأصل الحسنات والسيئات الإيمان والكفر وهما من أفعال القلوب، فإذا جعل كتمان الشهادة من آثام القلوب، كان من أعظم الذنوب إلخ (ج 9 ، ص 100، ط: دار الکتب العلمیۃ بیروت)-
وفی المعتصر من المختصر من مشکل الآثار: لأن كتمان الشهادة غير مغفور لأنه حق المشهود له إلخ(ج 6، ص 164، ط: مکتبۃ عالم الکتب)-