گناہ و ناجائز

مذاق میں کسی کفریہ عمل کی بات کرنا

فتوی نمبر :
77607
| تاریخ :
2024-08-23
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

مذاق میں کسی کفریہ عمل کی بات کرنا

ہمارے گھر میں قرآن خوانی ہوئی تھی ہمارے گھر کے پڑوس میں پنڈت رہتے ہیں، میں نےاپنی بہن سے مذاق میں کہہ دیا کہ ہون بھی کروالو ،اگر کچھ اور بھی رہ گیا ہو، وہ بھی کروالو ،تاکہ کوئی بلا گھر میں دوبارہ داخل نہ ہو ،تو ایک صاحب کہنے لگے یہ شرکیہ جملہ ہے بہت غلط آپ نے کہا ،حالانکہ ہم نے مذاق میں یہ بات کہی تھی جس کا مطلب اس کے علاؤہ کچھ نہیں تھا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کا بطور مذاح اپنی بہن سے ختم قرآن کے موقع پر پنڈت کے حوالے سے یہ کہنا کہ ان سے ہون بھی کروالو، اگرچہ کفریہ اور شرکیہ الفاظ نہیں ہے، اور نہ ہی اس کی وجہ سے سائل پرکفر کا فتویٰ لگایا جاسکتاہے، البتہ ایک مسلمان شخص کے لئے ہندوانہ رسومات کو اہمیت دیکر مصائب اور ابتلاء سے حفاظت کے لئے اسے مؤثر قرار دینا کسی بھی طرح جائز نہیں ، لہذاسائل کو چاہیئے کہ آئندہ اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے سے احتراز اور گزشتہ عمل پر توبہ واستغفار کرے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن أبي داود:عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ»(4/ 92)
وفی الدر المحتار:في الفتاوى الصغرى: الكفر شيء عظيم فلا أجعل المؤمن كافرا متى وجدت رواية أنه لا يكفر اهـ وفي الخلاصة وغيرها: إذا كان في المسألة وجوه توجب التكفير ووجه واحد يمنعه فعلى المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسينا للظن بالمسلم زاد في البزازية إلا إذا صرح بإرادة موجب الكفر فلا ينفعه التأويل ح وفي التتارخانية: لا يكفر بالمحتمل، لأن الكفر نهاية في العقوبة فيستدعي نهاية في الجناية ومع الاحتمال لا نهاية الخ(باب المرتد ج4 ص224 ط:سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ظفراللہ نعمت عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77607کی تصدیق کریں
0     803
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات