گناہ و ناجائز

Ruling on Travel Insurance

فتوی نمبر :
78053
| تاریخ :
2024-09-13
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

Ruling on Travel Insurance

ٹریول انشورنس کے بارے میں شریعت کا حکم کیا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مروجہ انشورنس سود، قمار اور غرر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، لہٰذا سائل کے لئے ٹریول انشورنس کروانا درست نہیں، بلکہ آج کل چونکہ اس کا جائز متبادل ( تکافل) مارکیٹ میں آچکا ہے، لہٰذا انشورنس کے بجائے تکافل کی طرف جانا چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی قولہ تعالیٰ: وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا اھ ( سورۃ البقرۃ: 275)۔
وقال اللہ تعالیٰ: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ( المائدہ: 90 )۔
وفی الموسوعة الفقهية الكويتية: اتفق الفقهاء على تحريم ميسر القمار الخ ( ج 39 ص 207 )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد مبارز الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 78053کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات