السلام علیکم! میں پاکستان کی ایک معروف یونیورسٹی سے حال ہی میں فارغ التحصیل ہوا ہوں اور اب 6 اعداد و شمار میں کمائی کے ساتھ ملازم کے طور پر کام کر رہے ہیں، میری گریجویشن کے فوراً بعد میرے گھر والے چاہتے تھے کہ میں اپنی میٹرک پاس کزن سے شادی کروں ، درحقیقت یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے، مجھے کسی سے محبت/جذبات نہیں تھی، اس لیے میں خوش ہوں، کیونکہ وہ واقعی اچھے اخلاق کی حامل خاتون ہیں، مسئلہ وہاں پیدا ہوا، جب میں نے شادی کے بعد اپنی تنخواہوں کی تقسیم کے بارے میں بحث کی، میں نے اپنے والدین سے کہا کہ میں اسے 80-20 فیصد میں تقسیم کروں گا، 80 فیصد اپنے والدین کو اور 20% اپنی بیوی کے جیب خرچ میں تقسیم کروں گا، اب میرے والدین نے کہا کہ "جب رہے گی ہمارے ساتھ تو جیب خرچ کا کیا کریگی"۔ میں نے ان چیزوں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی جیسے ہر بار جب اسے کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ آپ سے نہیں پوچھ سکتی ، میں خود اپنی ڈگری کے دوران اپنے والدین سے پوچھنے سے ہچکچاہٹ کا شکار رہتا تھا اور فری لانسنگ پر گزارا کرتا تھا، جس سے اوسطاً مجھے چند ہزار پیدا ہوتے تھے، لیکن میں ایسا نہیں کر سکتا تھا کہ اپنے والدین سے کالج کی ڈگری کے دوران ہونے والی سیر وتفریح کے لیے خرچ مانگتا، کیونکہ مجھے روز روز مانگنے میں شرم محسوس ہوتی تھی، پھر ایک لڑکی جو انکی حقیقی بیٹی بھی نہیں ہے ،وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کیسے ان سے سب خرچ مانگ سکے گی ، لیکن پھر والدین نے مجھے گستاخ اور نا جانے کیا کیا کہا، 2020 کی دہائی کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے (میرا مطلب ہے کہ وہ اسے 1980 کی دہائی سے نہیں جوڑ کر یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ سب کرنا عام ہے کیونکہ آج کے حالات اور ہیں )۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ براہ کرم اس بات پر روشنی ڈالیں کہ مجھے اس صورت حال پر کیا ردعمل ظاہر کرنا چاہیے؟ میں انہیں کیسے قائل کروں؟ انہوں نے پچھلے 3,4 دنوں سے مجھ سے بات نہیں کی اور اس وجہ سے ہمارا دین کیا کہتا ہے؟(میرے والد سرکاری ملازم ہیں جو حقیقت میں مجھ سے زیادہ کما رہے ہیں اور ان کی ذمہ داریوں کے لیے میری صرف ایک بہن باقی ہے ) آپ لوگوں کی طرف سے کسی بھی تجاویز کو بہت سراہا جائے گا۔ براہ کرم اس افراتفری سے میری مدد کریں۔
واضح ہو کہ شوہر کے ذمہ جس طرح بیوی کے حقوق ادا کرنا لازم ہے ، اسی طرح بیٹا ہونے کے ناطے والدین کے حقوق کی ادائیگی بھی اس کے ذمہ لازم ہیں ، لہٰذا سائل کو چاہیئے کہ والدین اور بیوی کے درمیان حقوق اور مقام کے اعتبار سے عدل کرتے ہوئے انہیں پیار و محبت سے سمجھانے کی کوشش کرے، جس سے ان کی حق تلفی نہ ہو، جبکہ سائل پر شرعاً بیوی کا نان و نفقہ واجب ہے اور نان و نفقہ سے مراد بقدرِ کفایت کھانے پینے، کپڑے، اور مکان کا انتظام کرنا ہے، نان و نفقہ کے علاو ہ اگرچہ بیوی کو الگ سے جیب خرچ دینا سائل پر لازم نہیں ہے، لیکن جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے ہوئے ایک خاتون کو کھانے پینے کے علاوہ دیگر اشیاء کی بھی ضرورت پڑتی ہے، جس کے لئے وہ وقتاً فوقتاً شوہر یا ساس و سسر سے رقم کا مطالبہ نہیں کرسکتی ہے، اس لئے سائل کا اپنی بیوی کو جیب خرچ کے نام سے مناسب رقم دینا ایک معقول فیصلہ ہے، البتہ اس کے لئے تنخواہ سے یہ رقم بیوی کے نام سے الگ کرنے کے بجائے اپنے ذاتی اخراجات کے نام سے الگ کردیا کرے، جس میں اپنے اخراجات کے ساتھ بیوی کو بھی بقدرِ ضرورت رقم دینے کا اہتمام کرے۔
کما فی تفسیر القرطبی: قوله تعالى: (إما يبلغن عندك الكبر أحدهما أو كلاهما) خص حالة الكبر لأنها الحالة التي يحتاجان فيها إلى بره لتغير الحال عليهما بالضعف والكبر، فألزم في هذه الحالة من مراعاة أحوالهما أكثر مما ألزمه من قبل، لأنهما في هذه الحالة قد صارا كلا عليه، فيحتاجان أن يلي منهما في الكبر ما كان يحتاج في صغره أن يليا منه، فلذلك خص هذه الحالة بالذكر.الخ ( سورۃ بنی اسرآئیل، ج 10 ص 241 ط: قاھرۃ)۔
وفی مرقاۃ المفاتیح: - وعن ابن عباس - رضي الله عنهما - قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - " «من أصبح مطيعا لله في والديه أصبح له بابان مفتوحان من الجنة، وإن كان واحدا فواحدا، ومن أمسى عاصيا لله في والديه أصبح له بابان مفتوحان من النار، إن كان واحدا فواحدا " قال رجل: وإن ظلماه؟ قال: " وإن ظلماه، وإن ظلماه، وإن ظلماه» ". الخ
وفی حاشیتہ: (وعن ابن عباس - رضي الله عنهما - قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - من أصبح مطيعا لله في والديه) أي: في حقهما. وفيه: أن طاعة الوالدين لم تكن طاعة مستقلة، بل هي طاعة الله التي بلغت توصيتها من الله تعالى بحسب طاعتهما لطاعته، وكذلك العصيان والأذى، وهو من باب قوله تعالى: {إن الذين يؤذون الله ورسوله} [الأحزاب: 57] ، ذكره الطيبي. قلت: ويؤيده أنه ورد: " «لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق» الخ ( ج 7 ص 3098 ط: بیروت)۔
وفی الدر المختار: وشرعا: (هي الطعام والكسوة والسكنى) وعرفا هي: الطعام (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو؛ لأنها أصل الولد (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة بحر (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس.الخ (کتاب الطلاق، باب النفقات،ج: 3 ص: 572 ط: سعید)
وفی الھندیۃ: تجب علی الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمیة والفقیرة والغنیة دخل بها أو لم یدخل، كبیرةً کانت المرأة أو صغیرةً، یجامع مثلها، کذا في فتاویٰ قاضي خان. سواء کانت حرةً أو مکاتبةً، كذا في الجوهرة النیرة. الخ( كتاب الطلاق، الباب التاسع عشر فی النفقات، ج:1 ص:544 ط: ماجدیہ)۔