کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے تربت میں ایک لاٹری ملتی ہے جس کو تقریباً 200 افراد لیتے ہیں، فی لاٹری کی قیمت 1000 روپے ہوتی ہے، تو 200 افراد 200 لاٹریاں لے لیتے ہیں جس کے بعد ان 200 ناموں میں سے قرعہ اندازی ہوتی ہے اور صرف ایک نام ہی اٹھایا جاتا ہے ان 200 ناموں میں سے، اب جس کے نام وہ لاٹری نکلتی ہے تو اس کو ایک نئی موٹر سائیکل دی جاتی ہے اور باقی 199 لوگوں کو کچھ نہیں ملتا اور یہ اسکیم بھی یہیں ختم ہوجاتی ہے، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس طرح کی لاٹری خریدنا جائز ہے؟ شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے، جواب عنایت فرماکر ممنون فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً
مسئولہ صورت میں مذکور اسکیم جوے پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالی : ياأيها الذين آمنوا إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون (المائدۃ:90)
وفی احکام القرآن للجصاص :وأما الميسرفقد روي عن علي أنه قال الشطرنج من الميسر و قال عثمان وجماعة من الصحابة والتابعين النرد و قال قوم من أهل العلم القمار كله من الميسر (الیٰ قولہ) وحقيقته تمليك المال على المخاطرة (4/127)
وفی المبسوط للسرخسی:تعلیق استحقاق المال بالخطر وھو قمار ،والقمار حرام فی شریعتنا اھ (11/18)