گناہ و ناجائز

Ruling on Lotteries

فتوی نمبر :
78556
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

Ruling on Lotteries

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے تربت میں ایک لاٹری ملتی ہے جس کو تقریباً 200 افراد لیتے ہیں، فی لاٹری کی قیمت 1000 روپے ہوتی ہے، تو 200 افراد 200 لاٹریاں لے لیتے ہیں جس کے بعد ان 200 ناموں میں سے قرعہ اندازی ہوتی ہے اور صرف ایک نام ہی اٹھایا جاتا ہے ان 200 ناموں میں سے، اب جس کے نام وہ لاٹری نکلتی ہے تو اس کو ایک نئی موٹر سائیکل دی جاتی ہے اور باقی 199 لوگوں کو کچھ نہیں ملتا اور یہ اسکیم بھی یہیں ختم ہوجاتی ہے، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس طرح کی لاٹری خریدنا جائز ہے؟ شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے، جواب عنایت فرماکر ممنون فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مسئولہ صورت میں مذکور اسکیم جوے پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالی : ياأيها الذين آمنوا إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون (المائدۃ:90)
وفی احکام القرآن للجصاص :وأما الميسرفقد روي عن علي أنه قال الشطرنج من الميسر و قال عثمان وجماعة من الصحابة والتابعين النرد و قال قوم من أهل العلم القمار كله من الميسر (الیٰ قولہ) وحقيقته تمليك المال على المخاطرة (4/127)
وفی المبسوط للسرخسی:تعلیق استحقاق المال بالخطر وھو قمار ،والقمار حرام فی شریعتنا اھ (11/18)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد صدیق سردار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 78556کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات