کیا پاکستان اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کی تکافل انشورنس میں کام کرنا یا اسے خریدنا درست ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ مروَّجہ انشورنس سود ، قمار اور غرر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً نا جائز وحرام اور گناہِ کبیرہ ہے ، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے، جبکہ اسٹیٹ لائف کار پوریشن کے زیر نگرانی تکافل پالیسی کا طریقہ اور تفصیلات اگر سائل فراہم کردے تو اس پر غور کرکے حکم شرعی سے آگاہ کیا جاسکتا ہے۔
کما قال اللہ تعالی : وتعاونوا علی البّر وّالتّقوی ولا تعاونوا علی الإثم والعدوان الآیۃ(سورۃ المائدۃ، آیۃ 2 )۔
و فی صحیح مسلم : عن جابر رضی اللہ عنہ قال :لعن رسول صلی اللہ علیہ وسلم اٰکل الربوا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء الخ(ج 2، ص27، کتاب البیوع باب الربا، ط: قدیمی) ۔
وفیہ ایضاً: عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ قال نھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم عن بیع الحصاۃ وعن بیع الغرر (ج2، ص2، کتاب البیوع، ط: قدیمی )۔
وفی ردالمحتار : (لأنہ یصیر قماراً ) (الی قولہ ) وسمی القمار قماراً لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذھب مالہ الی صاحبہ الخ (ج 6، ص 403، فصل فی البیع، کتاب الحظر والاباحۃ، ط: سعید)۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0