گناہ و ناجائز

تبلیغی سفر سے رکنے والے کو حضرت کعب رض کی وعید سنانا

فتوی نمبر :
78731
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

تبلیغی سفر سے رکنے والے کو حضرت کعب رض کی وعید سنانا

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ! امید ہے کہ حضرات مفتیانِ کرام بخیر و عافیت ہونگے ۔ حضرات کچھ اہم سوال آپ کی خدمت میں پیش کیےہیں تفصیل سے جواب مطلوب ہے،عین نوازش ہو گی ۔
اللہ کے راستے(تبلیغی جماعت ) میں نکلنے کا پختہ ارادہ کرنے کے بعد جانے کے وقت پر کسی وجہ سے بلا وجہ رک جانے والے کو وعید میں حضرت کعب ؓوالا واقعہ سنا نا کہ انکے تبوک میں نہ جانے پر کیا عتاب آیا ہے کہ اللہ کے راستہ سے رک جانا اپنے اوپر اللہ کے عذاب کو واجب کر لینا ہے ۔کیایہ کہنا درست ہے ؟
2 :اسی طرح اللہ کے راستے(تبلیغی جماعت ) سے رکنے پر سورت ِتوبہ کی آیت نمبر 24 میں جو وعید جہاد فی سبیل اللہ سے رکنے پر آئی ہے اسے بیان کرنا کیسا ہے؟ کیا یہ بیان کرنے کی گنجائش ہے ؟کیا سورتِ توبہ کی آیت نمبر 41 کو تبلیغی جماعت کی ترغیب دینے کے لئےبیان کر سکتے ہیں ؟یہ آیت کس موقع پر نازل ہو ئی ؟کیا اس میں عموم ہے ؟آیا اس آیت کا حکم اب بھی باقی ہے یا یہ آیت منسوخ ہے ؟
4 :صحابہ کرام کی حبشہ کی جانب جو ہجرت ہو ئی ہے کیا وہ دعوت کے لئے تھی یا اپنا دین و ایمان اور جان کی حفاظت کے لئے تھی ؟با لفرض اگر یہ ہجرت دعوت کے لئے بھی تھی تو چونکہ اس میں عورتیں بھی ساتھ تھیں ،تو آج مستورات کی جماعت کی اہمیت بیان کرتے ہو ئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ سب سے پہلی جماعت جو اللہ کے راستے میں گئی ہے اس میں صحابیات دین کی دعوت کے سلسلے میں پہلی ہجرت سے ساتھ تھیں ۔
5 :حضرت عمر کا یہ قول کہ "اگر اللہ کے راستے کی نقل و حرکت نہ ہوتی تو میں دنیا میں رہنا پسند نہ کرتا "کیا یہ قول ثابت ہے ؟اگر ہے تو اسے تبلیغی جماعت کی تشکیل کے وقت ترغیباً بیان کر سکتے ہیں ؟اس قول کا اصل مصداق کیا ہے؟
6:ایک اور اہم سوال ! ایک بڑے عالمِ دین صاحب بیان کرتے ہیں کہ جماعت کا مشورہ چھوڑ دینا اللہ کے راستے میں جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگ آنے سے بھی بڑا گناہ ہے ۔کیا ان کا یہ کہنا درست ہے؟ کیا اس میں کوئی تاویل کر سکتے ہیں؟ خلاصہ چونکہ تبلیغی جماعت کو بھی اللہ کا راستہ کہہ سکتے ہیں لہذا قرآن پاک اور احادیث میں جہاں بھی جہاد فی سبیل اللہ سے رکنے پر جو وعیدیں آئی ہیں کیا ان آیات اور احادیث کو تبلیغی جماعت میں نہ جانے پر منطبق کر سکتے ہیں ؟۔کیا یہ تحریف فی الدین کہلائے گا ؟ جزاکم اللہ خیراً ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح رہے کہ تبلیغی جماعت میں نکلنا اور تبلیغی سفر میں لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کی دعوت دینے کے لئے گشت وغیرہ کرنا بلا شبہ "فی سبیل اللہ میں "داخل ہے جبکہ لفظِ جہاد کا لغوی معنی و مفہوم (اللہ کے راستے میں کوشش کر نا ) کے لحاظ سے اگر چہ دعوت و تبلیغ کے کام پر بھی اس کا اطلاق کیا جا سکتا ہے ، تاہم جہاد اپنے اصطلاحی معنی کے اعتبار سے دین کی حفاظت اور اعلاء ِکلمۃ اللہ کیلئے کفار کے ساتھ لڑنے میں اپنی پوری طاقت خرچ کرنے کا نام ہے اور اس لفظ سے"متبادر فی الذہن" بھی یہ معنی معلوم ہو تا ہے ۔اس لئے اس اصطلاحی معنی کے اعتبار سے جہاد کے مفہوم اور معانی کو تبلیغی کام کی جدو جہد کے مماثل قرار دیکر جہاد وقتال سے متعلق وارد ہونے والی آیات کو اس پر منطبق کرنا اور ترکِ جہاد پر جو وعیدیں قرآن کریم میں نازل ہوئی ہیں ،ان کو لیکر تبلیغی جماعت میں نہ جانے والوں پر چسپاں کرنا ہر گز درست نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے ۔ لہذا سائل نے جس قسم کے واقعات کو بطورِتمثیل بیان کیا ہےوہ نامناسب اور غلو پر مشتمل ہیں جس سے ہر صورت اجتناب ضروری ہے اور ایسا رویہ عمومی طور پر ان افراد سے دیکھنے کو ملتا ہے ،جو دینی تعلیمات سے نا آشنا اور جذباتی ہوتے ہیں ،جبکہ تبلیغی جماعت سے وابستہ بزرگان ِدین اور علماءِکرام مذکورہ طرزِ عمل کی ہمیشہ مخالفت اور حوصلہ شکنی کرتے آرہے ہیں اس لئے اس طرح کے افراد کی باتوں کو لیکر تبلیغی جماعت کے کام سے بد ظن ہونا اور اس کارِ خیر سے قطع ِتعلقی اختیار کرنا بھی شدت پسندی کے زمرے میں شامل ہو گا ۔ سائل کو چا ہیئے کہ حکمت ِعملی کے ساتھ ان باتوں پر ضرور رد کرے ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ جماعت کے کام میں خیر کے عنصر کے غالب ہونے کی وجہ سے لوگوں کو اس سے متنفر کرنے اور توڑ پیدا کرنے والے کام سے خود کو بھی اور دوسروں کو بھی بچانے کی کوشش کرے کیو نکہ بلا شبہ فی نفسہ اس کام میں خیر ہی غالب ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالی: کنتم خیر أمۃ أخرجت للناس تأمرون با لمعروف و تنھون عن المنکر و تؤمنون باللہ الآیۃ (110، سورۃ أل عمران )۔
و فی احکام القران للجصاص: قال اللہ تعالی ( و لتکن منکم أمۃ یدعون إلی الخیر و یا مرون با لمعروف و ینھون عن المنکر ) قال ابو بکر قد حوت ھذہ الأیۃ معنیین احدھما وجوب الأمر بالمعروف و النھی عن المنکر و الآخر أنہ فرض کفایۃ لیس بفرض علی کل احد فی نفسہ اذا قام بہ ٖغیرہ الخ (باب فرض الأمر بالمعروف و النھی عن المنکر ج: 2، ص: 29 ،ط: سہیل اکیڈمی )۔
و فی الدر المختار: الجھاد لغۃ مصدر جاھد فی سبیل اللہ الخ
و فی الشامیۃ:تحت (قولہ مصدر جاھد أی بذل وسعہ و ھذا عام یشمل المجاھد بکل امر معروف و نھی عن منکر (کتاب الجھاد ج:4،ص:121،ط: سعید )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محسن نثار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 78731کی تصدیق کریں
0     253
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات