گناہ و ناجائز

محض حیدر نام ہونے کی وجہ سے اس پر شیعہ ہونے کاحکم لگانا

فتوی نمبر :
78864
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

محض حیدر نام ہونے کی وجہ سے اس پر شیعہ ہونے کاحکم لگانا

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میں بیرون ملک بحرین یا عرب ممالک جانا چاہتا ہوں،میرا تعلق اہلسنت والجماعت حنفی سنی مسلک سے ہے،لیکن والد کے نام میں "حیدر "کی وجہ سے ایمبیسی والے ویزہ نہیں دےرہےکہ کسی ادارے کا فتوی لیکر آؤ ،یہ ہمارے محلہ کی مسجد کے امام صاحب کا تحریری تصدیق نامہ منسلک ہے،لہذا اس کی روشنی میں ایک فتوی جاری فرمائیں ،تاکہ میرا ویزہ جاری ہوسکے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ کسی کے نام میں فقط لفظِ حیدر آنے سے اس پر شیعہ ہونے کا حکم نہیں لگایا جاسکتا،جب تک کہ اس کے بنیادی عقائدشیعوں کے نہ ہوں،یاوہ خود اپنے شیعہ ہونے کا اقرار نہ کرلے،یا اس کے کردار اور افعال واعمال سے اس کا شیعہ ہونا ثابت نہ ہوجائے ، لہذا سائل کے عقائد ونظریات اگر واقعۃ ً اہلسنت والجماعت مسلک کے موافق ہوں(جس کی تائید اس شخص کے امامِ محلہ نے بھی کر دی ،اور سوال سے بھی یہی معلوم ہورہا ہے)تو محض والد کانام "حیدر " ہونے کی وجہ سے اس پرشیعہ ہونے کاحکم لگانا شرعاً درست نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی مشکاۃ المصابیح:عن أبي ذر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا يرمي رجل ‌رجلا ‌بالفسوق ‌ولا ‌يرميه ‌بالكفر ‌إلا ‌ارتدت عليه إن لم يكن صاحبه كذلك"رواه البخاري".كتاب الآداب،باب حفظ اللسان،الفصل الأول (3/1356ط: المكتب الإسلامي)
وفیہ ایضا:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من دعا رجلا بالكفر أو قال: عدو الله وليس كذلك إلا حار عليه ". متفق عليه".كتاب الآداب ، باب حفظ اللسان ، الفصل الأول(3 /1357 ط: المكتب الإسلامي)
وفی الشامیۃ( :وعزر) ‌الشاتم (‌بيا ‌كافر) وهل يكفر إن اعتقد المسلم كافرا؟ نعم وإلا لا به يفتى شرح وهبانية.(قوله بيا كافر) لم يقيد بكون المشتوم بذلك مسلما لما يذكره بعد (قوله إن اعتقد المسلم كافرا نعم) أي يكفر إن اعتقده كافرا لا بسبب مكفر. قال في النهر: وفي الذخيرة المختار للفتوى أنه إن أراد الشتم ولا يعتقده كفرا لا يكفر وإن اعتقده كفرا فخاطبه بهذا بناء على اعتقاده أنه كافر يكفر؛ لأنه لما اعتقد المسلم كافرا فقد اعتقد دين الإسلام كفرا".(کتاب الحدود ، باب التعزیر 4/ 69 ط:سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حماد منظور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 78864کی تصدیق کریں
0     468
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات