السلام علیکم! حضرت! میرا سوال یہ ہے کہ : اگر لڑکے کے ماں باپ وغیرہ سب راضی ہوں اور لڑکی بھی راضی ہو اور لڑکی کی ماں بھی راضی ہو، صرف باپ راضی نہ ہو تو کیا اس سلسلہ میں، میں ایک حافظِ قرآن سے شریعت کے دائرے میں تعویذ لے سکتا ہوں؟ ایسا تعویذ نہ ہو کہ جس میں کفریہ الفاظ ہوں، یا ایک ایسے بندہ سے ہو، جو خود اسلام کے دائرے سے باہر ہو، یاد رہے کہ میں قسم اٹھا رہا ہوں کہ نہ میرا لڑکی سے تعلق ہے، نہ کسی قسم کا کوئی رابطہ ہے، صرف اور صرف میری ماں اور اس لڑکی کی ماں بہنیں ہیں، جب وہ آپس میں موبائل فون پر بات کرتی ہیں، تب یہ بات درمیان آتی ہے کہ فلانی میری بیٹی فلانا لڑکے کو پسند کرتی ہے، الحمد اللہ اس چیز سے مجھے بہت نفرت ہے، یہ جو موبائل فون پر رابطے کرنا یا ایک دوسرے کے ساتھ ملنا یا یہ girlfriend boyfriend اس کلچر سے مجھے سخت سے سخت نفرت ہے۔ آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا۔
اپنی پسند کی لڑکی سے شادی ہو جانے کے لئے اللہ سے مانگنے کے ساتھ ساتھ قرآنی آیات پر مشتمل وظائف پڑھنا یا ان آیات پر مشتمل تعویذ لینا ہر دو امور شرعاً جائز ہیں، تا ہم ان وظائف یا تعویذات کے باوجود اس لڑکی سے شادی نہ ہو پائے، تو اللہ کی تقدیر پر راضی ہو کر اسی میں اپنی ذات کے لئے خیرسمجھنى چاہيئے، البتہ اس مقصد کے لئے جادو ٹونے یا غیر شرعی طریقہ کار پر مشتمل عملیات سے کام لینا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما في أحكام القرآن للتهانوي: حكم الرقى و العزائم: تنبيه في الرقى و العزائم: الرقية إذا كانت لغرض مباح بأدعية مأثورة أو آيات قرآنية أو بما يشبهها من الكلمات المنقولة من الصلحاء و المشايخ فهي مما لا بأس بها؛ بل يثاب عليها إذا كانت بما ورد عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان يرقى بها وكان الغرض اتباع السنة أو نفع إخوانه المسلمين لا غير و إن كانت بكلمات فيه استعانة من الشياطين أو الكواكب فملحقة بالسحر المكفر و إن كانت بكلمات غير معلومة المعنى فمكروه؛ مخافة أن يلقى نفسه في تهلكة الكفر و ما كان منها بآيات قرآنية أو أسماء إلهية و أمثالها إلا أن المقصود بها إضرار مسلم (الى قوله) أو تسخير المسلم بحيث يصير مسلوب الإختيار في الحب أو البغض لأحد (الى قوله) لكونه ظالماً إلخ (ج: 1،ص: 51،ط: إدارة القرآن)۔
و في صحيح مسلم: عن عوف بن مالك الأشجعي قال: كنّا نرقي في الجاهلية فقلنا: يا رسول الله! كيف ترى في ذلك؟ فقال: اعرضوا علي رقاكم، لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك۔ (كتاب السلام، باب لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك، ج: 2،ص: 224،ط: النسخة الهندية)۔
و في مرقاة المفاتيح: و أما ما كان من الآيات القرآنيّة و الأسماء و الصّفات الربانية و الدعوات المأثورة النبويّة فلا بأس بل يستحب سواء كان تعويذاً أو رقية أو نشرة إلخ۔ (كتاب الطب و الرقى، الفصل الثاني، ج: 8،ص: 320،ط: مكتبة إمدادية)۔
و في فتح الباري: و قد أجمع العلماء على جواز الرقى عند اجتماع ثلاثة شروط: أن يكون بكلام الله تعالى بأسمائه و صفاته و باللسان العربي أو بما يعرف معناه من غيره و أن يعتقد أن الرقية لا تؤثر بذاتها بل بذات الله تعالى إلخ۔ (كتاب الطب، باب الرقى القران و المعوذات، رقم الحديث: ٥٧٣٥، ج: 1،ص: 240،ط: مكتبة أشرفيه ديو بند)۔