گناہ و ناجائز

پرنسپل کے آنے پر اساتذہ کا کھڑاہونا کیساہے؟

فتوی نمبر :
79801
| تاریخ :
2024-12-06
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

پرنسپل کے آنے پر اساتذہ کا کھڑاہونا کیساہے؟

ایک تعلیمی ادارے(کالج)کے پرنسپل جب چائے بریک (چائے کا وقفہ)کے موقع پر اساتذہ کے اسٹاف روم آتاہے تو اس کے لیے عموماً اکثر اساتذہ کھڑے ہوتے ہیں۔پرنسپل دراصل انہی اساتذہ میں سے سب سے سینئر استاد بنتاہے، کبھی کبھارجونیئر بھی اپنے تعلقات استعمال کرکے پرنسپل بن جاتے ہیں ۔اب بطورِ سربراہ ،وہ اساتذہ کے اے سی آر(ایک سالانہ خفیہ رپورٹ ہے جس کی بنیاد پر بڑے اسکیل میں پروموشن ہوتی ہے) لکھتاہے، اس کےعلاوہ پرنسپل کےساتھ ان بن ہو تو بطور ِسزا کسی استاد کا ٹرانسفر وغیرہ بھی پرنسپل کرتا/کرواتا ہے۔دوسری طرف اگر پرنسپل کے ساتھ تعلقات اچھے ہو ں تو سہولیات یا نوازشات ملتی ہیں۔ اب مذکورہ بالا پسِ منظر کو ملحوظِ نظر رکھتے ہوئے ایک پرنسپل جب اساتذہ کے اسٹاف روم میں آتاہے تو اس کے لیے اساتذہ کا کھڑا ہو نا جائز ہے یا ناجائز؟کوئی ایک آدھ اگر کھڑ ا نہ ہو تو وہ نظر میں آئے گا، جس سے کم ازکم اندیشہ یہ ہوتاہے کہ وہ پرنسپل کے گڈ بک میں نہیں رہے گا۔ جس کے نتیجے میں استادکی سالانہ کارگردگی کی رپورٹ (اے سی آر)متاثر ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔آپ کے فتوی نمبر144012201432میں اگرچہ کچھ وضاحت ہے، لیکن مذکورہ خاص صورتِ حال کے حوالے سے اگرجامع وضاحت ہوجائے تو بڑی مہربانی ہوگی۔ کچھ لوگ اسی خاص صورتِ حال میں کھڑے ہونے کی جواز کے حوالے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پیش کرتے ہیں کہ ”لوگوں کے ساتھ ان کے مناصب اور مراتب کے اعتبار سے پیش آؤ“ ۔کیا یہ حدیث مذکورہ صورتِ حال میں کھڑے ہونے کا جواز پیش کرتی ہے؟ صراحت کے ساتھ وضاحت فرماکر رہنمائی فرمائیں۔ اللہ تعالی جز ائے خیر عطا فرمائیں۔آمین

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور ادارہ میں پرنسپل کےلئے ان کے سینئر استاد ہونے، عمر یا مرتبہ میں بڑا ہونے کی وجہ سے تعظیماً کھڑا ہونا وہاں کی عام عادت ہو، پرنسپل خود لوگوں کے کھڑے ہونے کی خواہش نہ رکھتا ہو اور نہ کھڑے ہونے والے کو کوئی ضرر اور نقصان کا اندیشہ بھی نہ ہو تو پرنسپل کے اسٹاف روم وغیرہ میں آنے کے وقت اساتذہ کا ان کی تعظیم میں کھڑا ہونے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ البتہ اگر اس معمول کو لازم سمجھا جاتا ہو اور کسی موقع پر کھڑا نہ ہونے والے کو معتوب قرار دیا جاتا ہو تو ایسی صورت میں اس عمل سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: و فی الوھبانیۃ یجوز بل یندب القیام تعظیما للقادم کمایجوزالقیام،ولوللقارئ بین یدی العالم و سیجئی نظماً إلخ۔
و فی الشامیۃ: تحت (قولہ یجوز بل یندب القیام تعظیما للقادم إلخ) أی إن کان ممن یستحق التعظیم قال فی القنیۃ: قیام الجالس فی المسجد لمن دخل علیہ تعظیما، و قیام قارئ القرآن لمن یجئی تعظیما لا یکرہ إذا کان ممن یستحق التعظیم، و فی مشکل الآثار القیام لغیرہ لیس بمکروہ لعینہ إنما المکروہ محبۃ القیام لمن یقوم لہ، فإن قام لمن لا یقام لہ لا یکرہ۔ قال ابن وھبان أقول: و فی عصرنا ینبغی أن یستحب ذالک أی القیام لما یورث ترکہ من الحقد و البغضاء و العداوۃ لاسیما إذا کان فی مکان اعتید فیہ القیام، و ما ورد من التوعد علیہ فی حق من یجب القیام بین یدیہ کما یفعلہ الترک و الأعاجم۔ قلت: یؤیدہ ما فی العنایۃ و غیرھا عن الشیخ الحکیم أبی القاسم کان إذا دخل علیہ غنی یقوم لہ و یعظمہ و لا یقوم للفقراء و طلبۃ العلم فقیل لہ فی ذالک، فقال الغنی یتوقع منی التعظیم، فلو ترکتہ لتضرر و الفقراء و الطلبۃ إنما یطعمون فی جواب السلام و الکلام معھم فی العلم إلخ۔ (کتاب الحظر و الإباحۃ، باب الاستبراء و غیرہ، ج 6، ص 384، ط: سعید)۔
و فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: اعتمد سیدی عبد الغنی النابلسی ما جری فی زماننا من القیام للداخل من الأعیان، و إحناء الرأس لہ إن عظم قدرہ جدا(إلی قولہ) فھذا کلہ من الأمور العادیۃ، لم تکن فی السلف، و نحن الیوم نفعلہ فی المکارات و المدارۃ و ھو جائز مأمور بہ مع کونہ بدعۃ، لکن الأمر بہ علی وجہ الاستحباب فی حالۃ واحدۃ فقط، و ھی إذا کان ترکہ یورث الحقد و البغضاء و العداوۃ، و قیام الجالس فی المسجد لمن دخل علیہ تعظیما، و قیام قارئ القرآن لمن یجئی تعظیما لا یکرہ إذا کان ممن یستحق التعظیم، فالقیام لیس بمکروہ لعینہ، إنما المکروہ محبۃ القیام من الذی یقام لہ، فإن لم یحب و قام لا یکرہ۔ أما إذا کان یکرہ عدم القیام لہ، و یتأذی ممن لم یقم لہ و یشکوہ أو یعاتبہ، فإنہ یکرہ القیام لہ، فإن قام لمن لا یقام لا یکرہ، لا سیما إذا کان فی مکان اعتید فیہ القیام إلخ۔ (باب المصافحۃ، ج 5، ص 415۔416، ط: دار القلم)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالروف نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 79801کی تصدیق کریں
0     12
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات