کیا ڈراپ شپنگ کیش آن ڈیلیوری پر جائز ہے؟ مثلاً میں خریدار سے آرڈر لوں لیکن پیمنٹ نہ لوں، اور اپنے ڈیلر سے وہ پیکج ڈیلیور کرواؤں اور پیمنٹ بھی ڈیلر ہی وصول کرے، اور مجھے صرف میرا منافع دے دیا جائے؟اور یہ بھی واضح کر دیجیے گا کہ اس صورت میں خریدار کو بتانا ضروری ہوگا کہ میں ڈراپ شپنگ کر رہا ہوں؟
سائل اگر اس طور پر ڈراپ شپنگ کرے کہ ڈیلر کے ساتھ اپنی اجرت (فیس)طے کرے(کہ مثلاً ایک پراڈیکٹ فروخت کرنے پر میں سو(100)روپے وصول کرونگا)تو ایسی صورت میں درج کردہ طریقہ کار کے مطابق ڈراپ شپنگ کرنا جائز ہو گا۔
کما فی فقہ البیوع:الوعد والمواعدۃ بالبیع لیس بیعاً،ولا یترتب علیہ آثار البیع من نقل ملکیۃ المبیع ولا وجوب الثمن،واذا وقع الوعد او المواعدۃ علیٰ شراء شیئ او بیعہ بصیغۃ جازمۃ وجب علیٰ الواعد دیانۃ ان یفی بہ،ویعقد البیع حسب وعدہ ولکنہ لا یجبر علیٰ ذلک قضاءً. (2/1137)
وفی الہدایہ:قال،ولا يجوز بيع السمك قبل أن يصطاد" لأنه باع مالا يملكه "ولا في حظيرة إذا كان لا يؤخذ إلا بصيد"؛ لأنه غير مقدور التسليم، ومعناه إذا أخذه ثم ألقاه فيها لو كان يؤخذ من غير حيلة جاز، إلا إذا اجتمعت فيها بأنفسها ولم يسد عليها المدخل لعدم الملك.(3/44)۔
وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين قال: "ولا بيع الطير في الهواء" لأنه غير ممل وك قبل الأخذ، وكذا لو أرسله من يده لأنه غير مقدور التسليم.