السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
حضرت میں نے اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن میں پالیسی کروائی ہوئی ہے، میں نے ۱۲ اقساط دی ہوئی ہیں۔
۱۔ کیا شریعت کی رو سے یہ جائز ہے ؟
۲۔ اگر یہ جائز نہیں تو کیا میں اپنی اصل رقم واپس لے سکتا ہوں ؟ اس پر جو interest لگا ہے اس کومیں کمپنی کے پاس ہی رہنے دوں یا کسی کو دے دوں؟
اسٹیٹ لائف انشورنس کا طریقہ کار بھی سودی بینکوں کی طرح سود پر مبنی ہوتا ہے ، اس لئے اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی سے پالیسی لینا جائز نہیں، تاہم اگر سائل نے لاعلمی میں یہ پالیسی لی ہو تو اب اس کو ختم کر کے اپنی جمع شدہ ر قم انعام سمیت وصول کرلے، پھر سودی رقم کو بلانیتِ ثواب کسی مستحق کو صدقہ کر دے ،جبکہ اصل رقم اپنے پاس رکھ لے اور اپنے اس عمل پر بصدقِ دل تو بہ واستغفار بھی کرے۔
کما قال تعالى: قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الريا: الآية: (البقره: 275)
وقال تعالیٰ ايضاً: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ الآية (المائدة : 90)
وفي رد المحتار: (قوله كما بسطه الزيلعي) حيث قال لأنه كالمغصوب وقال في النهاية: قال بعض مشايخنا كسب المغنية كالمغصوب لم يحل أخذه، وعلى هذا قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلاتصدقوا بھا لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبه اھ (۶/ ۳۸۵)-
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0