گناہ و ناجائز

ایک ملک کی پراڈکٹ پر دوسرے ملک کا نام لکھوانا

فتوی نمبر :
79984
| تاریخ :
2024-12-15
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ایک ملک کی پراڈکٹ پر دوسرے ملک کا نام لکھوانا

السلام علیکم،کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں سپیئر پارٹس کا کام کرتا ہوں اور میں ایک import بھی ہوں ،چائنا سے پاکستان تک ہول سیل Business کا ایک برانڈ ہے سپیئر پارٹس میں ، جسکا نام TURBO ہے اور اس میں Bearing کی کافی زیادہ size موجود ہے 100 تک کے قریب ، اور یہ برانڈ تھوڑا پرانا بھی ہے، یہ کسی کراچی شہری کا ہے ،وہ انڈیا سے اس مال کو منگواتا ہے اور ہم لوگ چائنا سے چائنا کا مال اوریجینل منگواتے ہیں جوکہ سستا پڑتا ہے، لوگوں کو بھی پتہ ہے یہ چائنا کا مال ہے اور اچھی کوالٹی بھی ہے، لیکن انڈیا کا مال بہت مہنگا ہونے کے وجہ سے لوگ نہیں خریدتے، کوالٹی دونوں کی same ہے ، کراچی کے لوگ تھوڑے Educated ہیں انکو marketing آتی ہے کسی product کا ، اس برانڈ کے نام پر customers کو کافی زیادہ بھروسہ ہے، بہت سارےimports جوکہ مارکیٹ میں ہیں ،اس برانڈ کے نام bearing کا آڈر دیتے ہیں chinaسے اور مالک کی طرف سےاجازت نہیں ہے ، اس نام پر مال منگوانےسے ایک دو بار آکر کہ لوگوں پر FIR بھی کاٹی ہے، لیکن اب اس کے بس سے یہ بات نکل گئی کہ لوگوں کو روکیں، کیونکہ انڈین مال مہنگا ہونے کی وجہ لوگ خریدتے بھی نہیں ہیں ، اب بلکل لوگ ظاہراً اس مال کو منگواتے ہیں اور بھیجتے ہیں چاہے wholesale والا ہو یا retail والا ہو، لیکن پھر بھی 10 یا 20 پرسنٹ اب بھی لوگ چھپاتے ہے ، تو اب سوال یہ ہے میں نے اس نام سے مال منگوایا ہے چائنا سے best quality میں ، تو کیا اسکی آمدنی حرام ہے یا طریقہ غلط ہے؟ کیونکہ مجھے آپنی آمدنی کی فکر ہے ، میری کوشش ہے کہ میں آپنےآپ کو ایک ایک حرام کےروپے سے بچالوں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جب کسٹمر کوئی چیز خریدتا ہے تو عموماً اس چیز کے مونوگرام کو دیکھ کر کمپنی یا ملک کے اشیاء کی کوالٹی کو مدنظر رکھ کر خریدتا ہے، جبکہ مذکورہ صورت میں چائنہ پروڈکٹ پر انڈیا کا ٹریڈ مارک لگا کر فروخت کرنا دراصل کسٹمر کےساتھ فراڈ کرنے کے مترادف ہے،لہذا مذکور صورت میں غلط ٹریڈ مارک کے ساتھ مال فروخت کرنا فریب اور جھوٹ پر مبنی ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعید وارد ہوئی ہے، لہذا سائل کو چاہیے کہ وہ اس کام سے مکمل اجتناب کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی مرقاۃ المفاتیح: وعن ابی ھریرۃؓ "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها فنالت أصابعه بللا فقال: "ما هذا يا صاحب الطعام؟ قال: أصابته السماء يا رسول الله، قال: أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس، من غش فليس مني" رواه مسلم، (کتاب البیوع، باب المنھي عنها من البيوع، ج 5، ص 1935، المرقم: 2860، ط: دار الفکر، بیروت)-
وفیھا ایضاً: وعن أبي سعيدؓ قال: قال: رسول الله صلى الله عليه وسلم: " التاجر الصدوق الأمين مع النبيين والصديقين والشهداء" رواه الترمذي والدارمي والدارقطني، (إلی قولہؐ) وعن عبيد بن رفاعة، عن أبيهؓ عن الرسول صلى الله عليه وسلم قال: "التجار يحشرون يوم القيامة فجارا، إلا من اتقى وبر وصدق" رواه الترمذي، وابن ماجه، والدارمي،(کتاب البیوع، باب المساهلة في المعاملة، الفصل الأول، ج 5، ص 1909-1911، ط: دار الفکر، بیروت)-
وفی البدائع: وعلى هذا يخرج ما إذا قال: بعتك هذا الياقوت بكذا فإذا هو زجاج أو قال: بعتك هذا الفص على أنه ياقوت بكذا فإذا هو زجاج أو قال: بعتك هذا الثوب الهروي بكذا فإذا هو مروي، أو قال: بعتك هذا الثوب على أنه مروي فإذا هو هروي لا ينعقد البيع في هذه المواضع؛ لأن المبيع معدوم، والأصل في هذا أن الإشارة مع التسمية إذا اجتمعتا في باب البيع فيما يصلح محل البيع ينظر إن كان المشار إليه من خلاف جنس المسمى، فالعبرة للتسمية، ويتعلق العقد بالمسمى، وإن كان من جنسه لكن يخالفه في الصفة فإن تفاحش التفاوت بينهما، فالعبرة للتسمية أيضا عندنا، ويلحقان بمختلفي الجنس، وإن قل التفاوت فالعبرة للمشار إليه، ويتعلق العقد به، وإذا عرف هذا فنقول: الياقوت مع الزجاج جنسان مختلفان، وكذا الهروي مع المروي نوعان مختلفان؛ فيتعلق العقد فيه بالمسمى وهو معدوم فيبطل ولا ينعقد، الخ (کتاب البیوع، فصل في الشرط الذي يرجع إلى المعقود عليه، ج 5، ص 139-140، ط: ایچ ایم سعید)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبداللہ اسد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 79984کی تصدیق کریں
0     354
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات