گناہ و ناجائز

ATM کارڈ کی شرعی حیثیت اور اس کے استعمال کا حکم

فتوی نمبر :
80047
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ATM کارڈ کی شرعی حیثیت اور اس کے استعمال کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ :
۱۔ (ATM) کارڈ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
۲۔ اگر فقیر کو معلوم ہو، جو مال مجھے دیا جا رہا ہے، وہ حرام کا ہے، تو کیا باوجود حرمت کا علم ہونے کے اس کے لئے لینا جائز ہے؟
۳۔ مسائل اثنا عشریہ میں فتویٰ صاحبین کے قول پر ہے ، یا امام صاحب رحمہم اللہ کے قول پر ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(1)_ واضح ہو کہ ATM کارڈ کی حقیقت یہ ہیں کہ یہ کارڈ بینک اپنے کھاتہ داروں کو اس غرض سے جاری کرتا ہے کہ اپنی جمع شدہ رقم کے ذریعے وہ اپنے شہر ملک یا کسی بھی جگہ کہیں بھی ATM نظام سے اپنی ضروریات کے بقدر رقم بصورت نقد حاصل کر سکیں ۔ اس کارڈ کے ذریعے آدمی اپنی جمع کردہ رقم سے ہی استفادہ کر سکتا ہے، اس کے علاوہ نہیں ،اور اس کے لیے الگ سے کوئی معاوضہ وغیرہ کی ادائیگی بھی لازم نہیں ہوتی ، اس حقیقت کو دیکھتے ہوئے چونکہ اس میں نا جائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں پائی جاتی،اس لئے اس کارڈ سے استفادہ شرعاً بھی جائز اور درست ہے۔
(۲) اگر فقیر کو اس مال کی حرمت کا علم ہو یا اسے بتا یا جائے، تو اس کیلئے بھی اس مال حرام کا لیکر استعمال کرنا جائز نہیں۔
(۳) مسائل اثنیٰ عشریہ میں فتوی اگر چہ صاحبین کے قول پر ہے،لیکن احتیاط اور تقویٰ پھر بھی یہی ہے کہ امام صاحب کے قول پر عمل کرتے ہوئے نماز کا اعادہ کر لیا جائے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفتاوى الهندية: وسئل يوسف بن محمد عن غاصب ندم على ما فعل وأراد أن يرد المال إلى صاحبه وقع له اليأس عن وجود صاحبه فتصدق بهذا العين هل يجوز للفقير أن ينتفع بهذا العين فقال لا يجوز أن يقبله ولا يجوز له الانتفاع وإنما يجب عليه رده إلى من دفعه إليه اھ (5/ 157)
وفي حاشية ابن عابدين: وما نقل عن بعض الحنفية من أن الحرام لا يتعدى إلى ذمتين سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك أما من رأى المكاس يأخذ من أحد شيئا من المكس ثم يعطيه آخر ثم يأخذه من ذلك الآخر فهو حرام اه (6/ 385)
وفي الدر المختار : (ولو) وجد المنافي (بلا صنعه) قبل القعود بطلت اتفاقا ولو (بعده بطلت) في المسائل الاثني عشرية عنده وقالا صحت ورجحه الكمال وفي الشرنبلالية والأظهر قولهما بالصحة في الاثني عشرية اھ (1/ 606)
وفي البحر الرائق: والصحيح ما قاله الكرخي وقال صاحب التأسيس ما قاله أبو الحسن أحسن لأن الأول ليس بمنصوص عن أبي حنيفة ورجح المحقق في فتح القدير قولهما اھ (1/ 399) والله تعالى اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسیب احمد حبیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 80047کی تصدیق کریں
0     848
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات