جناب مفتی صاحب ! یہاں پر ”کے پی کے “میں سرکار نے لائف انشورنس کا اعلان کیا ہےکہ” کے پی کے“ کے جتنے بھی رہائشی ہیں،سب کو بلا اختیار اس میں شامل کیا گیا ہے ،کہ جب بھی انشورنس والا بندہ مر جائے ،اس کو حکومت کی طرف سے رقم ملے گی، اور یہ معاہدہ حکومت اور انشورنس کمپنی کے ما بین ہوا ہے،لیکن جب انشورنس والا بندہ مر جاتا ہے، تو پھر خاندان والوں کو اختیا ر دیا جاتا ہےکہ چاہے رقم لیں یا نہ لیں،اب سوال یہ ہےکہ کیا یہ رقم لینا جائز ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں چونکہ لائف انشورنس کا معاہدہ حکومت اور انشورنس کمپنی کے درمیان طے پایا ہے، اور صوبہ خیبر پختونخوا کی عوام کو اس میں بلا اختیار شامل کیا گیا ہے، لہٰذا اگر واقعی حکومتِ وقت عوام کو لائف انشورنس کی مد میں رقم فراہم کرتی ہو، اور اس کے عوض عوام سے کوئی رقم وصول نہ کی جاتی ہو، نیز عوام خود بھی اس مقصد کے لیے کوئی رقم جمع نہ کراتی ہوں، تو ایسی صورت میں حکومت کی جانب سے دی جانے والی انشورنس کی رقم حاصل کرنے کی گنجائش ہے۔
کما فی الدرالمختار: (هي) لغةً التفضل على الغير ولو غير مال. وشرعًا (تمليك العين مجانًا) أي بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيه(إلی قولہ) (وسببها إرادة الخير للواهب) دنيوي كعوض ومحبة وحسن ثناء، وأخروي الخ ( کتاب الھبۃ،ج5،ص 687،ط: سعید)۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0