گناہ و ناجائز

وکیل کا کسی فریق سے مسئلہ حل کرنے کے لئے اجرت لینا

فتوی نمبر :
80187
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

وکیل کا کسی فریق سے مسئلہ حل کرنے کے لئے اجرت لینا

کیا فرماتے ہیں علماءِکرام و مفتیان ِعظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارا پیشہ وکالت کا ہے، جس میں ہم لوگوں کے کیس (مقدمات) لیتے ہیں ،اور وکیل بن کر ان کی طرف سے کیس لڑتے ہیں، جس پر وہ ہمیں کچھ مخصوص رقم دیتے ہیں، جو کیس لڑنے سے پہلے طے پاتی ہے، مثلاً دس ہزار بیس ہزار وغیرہ، ہمارا یہ پیشہ غیر سرکاری ہے ،حکومت کی طرف سے ہماری کوئی تنخواہ نہیں ہے۔ البتہ ہماری یونین ہے، وہ (رجسٹرڈ) ہے ،جس کی ہم میں سے ہر وکیل پندرہ سو روپے سالانہ فیس بھرتا ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ آیا ہمارے لئے وکالت پر پیسے لینا جو کہ عوام دیتے ہیں جائز ہے یا نہیں ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں تاکہ میں اور میرے دیگر و کلاء دوست اگر یہ آمدنی نا جائز ہے تو بچ سکیں۔ نیز مقدمہ جیتنے یا ہارنے کی صورت میں فیس میں کوئی کمی یا زیادتی کی شرط نہیں ہوتی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جائز مقدمات کی پیروی اور وکالت پر متعین اور مخصوص اجرت لینے کی گنجائش ہے۔
جبکہ عام طور پر مقدمات میں مروجہ وکالت جھوٹ کا سہارا لیتی ہے ،جو بلاشبہ ناجائز و حرام ہے اور ایسی وکالت پر اجرت لینا بھی جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الفقه الإسلامي وأدلته: تصح الوكالة بأجر وبغير أجر؛ لأن النبي صلّى الله عليه وسلم كان يبعث عماله لقبض الصدقات ويجعل لهم عمولة (إلی قوله) ولأن الوكالة عقد جائز لا يجب على الوكيل القيام بها، فيجوز أخذ الأجرة فيها، بخلاف الشهادة فإنها فرض يجب على الشاهد أداؤها اھ (5/ 691)۔
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: ولا يجوز التوكيل في المعصية أو المحرَّم كالظهار، فلا يوكل من يظاهر عنه زوجته؛ لأنه منكر ومعصية اھ (5/ 704)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مختار زمان سعد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 80187کی تصدیق کریں
0     1395
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات