ایک ملک کے مشہور و معروف اور مستند مؤقر دینی جریدے، ضربِ مؤمن کی مورخہ ۲۳ اگست ۲۰۰۲ء میں حرام اشیاء کے استعمال سے اجتناب کے بارے میں بتایا گیا۔ اس کے علاوہ وقتا فوقتا مختلف ذریعے سے اہل اسلام کو آگاہ کیا جاتا رہا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں اور اس قسم کی کمپنیاں اپنی مصنوعات میں حرام اجزاء شامل کرتےہیں،جن کا روزمرہ استعمال دیکھنے میں آتا ہے ،وہ بھی مسلمان گھرانوں میں ۔ آپ سے عاجزانہ الماس ہے کہ اس سلسلے میں ہماری رہنمائی فرمائیں تاکہ کر ہم ذہنی و قلبی کرب و کیفیت سے نکل سکیں۔ مسئلہ کی وضاحت کے لئے ایک پمفلٹ منسلک کیا جا رہا ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ از راہِ کرم جواب مرحمت فرما کر ممنون فرمائیں۔عین نوازہوگی ۔
اگر کوئی کمپنی حرام بنا کر کھلانے میں معروف نہ ہو تو محض کسی مخصوص کوڈ یا کمپنی کی اشیاء ہونے کی وجہ سے کسی چیز کو شرعا حرام یا حلال قرار نہیں دیا جا سکتا ،الا یہ کہ اس چیز سے متعلق یہ معلوم ہو جائے کہ اس کے اجزائے ترکیبیہ میں سے کوئی چیز حرام ہے اور کسی کیمیاوی طریقہ سے اس کی حقیقت و ماہیت کو بھی تبدیل نہیں کیا گیا، تب تو اس سے بچنا لازم ہوگا، جبکہ تقوی کا تقاضا یہ ہے کہ جس چیز کی حلت و حرمت میں شک ہو،اسے استعمال میں لانے سے احتراز کیا جائے ۔
كما في سنن الترمذي: عن النعمان بن بشير قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول الحلال بين والحرام بين وبين ذلك أمور مشتبهات اھ(3/ 511)۔
وفي غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر : قوله : الأصل في الأشياء الإباحة إلخ (إلی قوله) أن المختار أن الأصل الإباحة عند جمهور أصحابنا، (إلی قوله) ودليل هذا القول قوله تعالى {خلق لكم ما في الأرض جميعا} (1/ 471)۔
وفي الأشباه والنظائر لابن نجيم: القاعدة الثالثة: اليقين لا يزول بالشك اھ (ص: 56)۔