بخدمت جناب محمد نعیم صاحب جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی! گزارش عرض ہے کہ عرصہ قبل ہم نے اپنے ایمپلائی محمد طفیل صاحب کو موٹر سائیکل (ایس۔ ۳۷۴۰) اور محمد فاروق صاحب کو موٹر سائیکل (ایس۔ ۳۷۳۴) الاٹ کی، مگر ہمارے ایک ملازم کی غلطی کی وجہ سے جو نوکری چھوڑ کے جا چکے ہیں ، دونوں ایمپلائی کو گاڑی نمبر (ایس۔ ۳۷۴۰) کے اتھارٹی لیٹر جاری کر دیے تھے،کچھ عرصے کے بعد نمبر (ایس۔ ۳۷۴۰) کی ایف آئی ا ٓر کٹوائی ، جبکہ طفیل صاحب کے پاس (ایس۔۳۷۴۰) کی گاڑی موجود تھی۔
اب مسئلہ درپیس یہ ہے کہ طفیل صاحب جن کے پاس گاڑی (ایس۔ ۳۷۴۰) موجود ہے، انہیں پولیس تنگ کر رہی ہے کہ آپ چوری کی گاڑی چلا رہے ہیں، رشوت، کورٹ وغیرہ کے چکر میں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور طفیل صاحب ہم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہم انہیں کورٹ وکیل کی فیس یا کچھ رقم دیں ،کیونکہ یہ ہماری غلطی ہے۔
براہ مہربانی مندرجہ بالا مسئلے پر اپنا ماہرانہ مشورہ بطورِ فتویٰ سے ہمیں آگاہ کریں کہ کیا اس ضمن میں یہ ہم پر واجب ہے کہ ہم ان کے کیس کی فیس یا کوئی رقم ادا کریں۔
کمپنی کی طرف سے کوتاہی ہے ،تو متعلقہ کمپنی مالکان پر اولاً تو یہ لازم ہے کہ اپنا ریکار ڈ کورٹ میں پیش کر کے مسمیٰ طفیل صاحب کا بے قصور ہونا ثابت کریں ،اور ان پر سے اس الزام کو ختم کروانے کی کوشش کریں،مسمیٰ طفیل صاحب کا اس سلسلہ میں جو واقعی خرچہ ہوا ہے ،وہ بھی ادا کریں، اور آئندہ کے لئے اپنے معاملات کی درستگی کا خیال بھی رکھیں۔
كما في شرح المجلة: لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي أى لا يحل في كل الأحوال عمداً أو خطأً اھ (۱/ ۲۶۴)۔