محترم جناب مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!سلام کے بعد عرض یہ ہے کہ بندہ کے چچا ہائی کورٹ کے وکیل ہیں، وکیل صاحب اپنی رقم سے دوکان وغیرہ یا کوئی اور کاروبار میرے ساتھ کرنا چاہتے ہیں، میرے پاس اپنی ذاتی کوئی رقم نہیں ہے، کیا بندہ ان کے ساتھ کوئی کاربار کر سکتا ہےیا نہیں؟ یعنی رقم ان کی ہوگی، اور محنت میں کروں گا ،اور نفع آدھا آدھا ہوگا، کیا میں ایسا کر سکتا ہوں ،یا ان کے ساتھ تنخواہ پر کام کر سکتا ہوں؟
کاروبار میں اگر ایک آدمی کا مال ہو ،اور دوسرے آدمی کا عمل ہو، اور نفع آدھوں آدھ یا فیصد وغیرہ کے اعتبار سے متعین کر لیا جائے تو یہ عقد ’’مضاربت‘‘ کہلاتا ہے، جو شرعاً بھی جائز اور درست ہے۔ اور اگر سائل تنخواہ پر کام کرنا چاہے تو شرعاً یہ بھی جائز ہے اور عقد ’’ اجارہ‘‘ کہلائےگا، لہٰذا ان دونوں سے کوئی بھی صورت بھی اختیار کر سکتے ہیں۔واللہ أعلم بالصواب!
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0