کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مروجہ انشورنس (بیمہ پالیسی) میں شریک ہونا اپنی لائف انشورنس، گاڑی یا مکان وغیرہ کی انشورنس کروانا جائز ہے یا نہیں؟ اور اس سے حاصل شدہ رقم سے حج وعمرہ وغیرہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر کسی نے یہ نیک عمل کر لیا ،آیا قبول ہوگا یا پیسے اور سفر وغیرہ ضائع گیا؟ مہربانی فرما کر وضاحت فرما دی جائے۔
مروجہ بیمہ پالیسی (انشورنس)ربوا اور قمار کا مجموعہ ہے ،جو کہ شرعاً ناجائز اور حرام ہے، اور(اصل رقم کے علاوہ بطور منافع)حاصل ہونیوالی رقم چونکہ حرام ہے، اس لیے اس سے حج کرنا یا دوسرے کارِ خیر یا اپنی ضروریات وغیرہ میں لگانا سب ناجائز ہے، بلکہ اس مال کو بغیر نیتِ ثواب کے صدقہ کر دینا لازم اور ضروری ہے،تاہم اگر کسی نے اس مال سے حج کر ہی لیا ہو، اگرچہ فرض اس کے ذمہ سے ساقط ہو جائےگا، مگر غیر مقبول ہونے کی وجہ سے اس پر ثواب حاصل نہ ہوگا۔
ففي معارف السنن: من ملك بملك خبیث ولم يمكنه الرد إلى المالك فسبيله التصدق على الفقراء اھ(۱/ ۳۴)۔
وفي حاشية ابن عابدين: رجل دفع إلى فقير من المال الحرام شيئا يرجو به الثواب يكفر اھ (2/ 292)۔
وفي الدر المختار: وقد يتصف بالحرمة كالحج بمال حرام اھ(2/ 456)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله كالحج بمال حرام) كذا في البحر والأولى التمثيل بالحج رياء وسمعة، فقد يقال إن الحج نفسه الذي هو زيارة مكان مخصوص إلخ ليس حراما بل الحرام هو إنفاق المال الحرام، ولا تلازم بينهما، (إلی قوله) مع أنه يسقط الفرض عنه معها ولا تنافي بين سقوطه، وعدم قبوله فلا يثاب لعدم القبول، ولا يعاقب عقاب تارك الحج. اهـ (2/ 456)۔ واللہ أعلم بالصواب!
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0