محترم جناب مفتی صاحب بنوریہ سائیٹ کراچی السلام علیکم و رحمتہ الله!
( 1): سوال یہ ہے کہ میری چھوٹی بہن امریکا میں مقیم ہے، ایک ماہ قبل ان کے شوہر کا اچانک انتقال ہو گیا ہے وہ امریکا میں ڈاکٹر تھے، اور انہوں نے وہاں اپنا Life Insurance (بیمہ پالیسی ) لے رکھی تھی ،جو ان کے عہدے کے لحاظ سے بہت اچھی تھی ۔ ان کے مرنے کے بعد انشورنس کی رقم جو تقریباً چار لاکھ ڈالر بنتی ہے بیوہ کو ملے گی ۔
(۲): اسی طرح Social Security card کے ذریعہ جب تک ان کے سارے بچے 14 سال کے نہیں ہوتے، ۲ ہزار ڈالر ماہانہ ، انشورنس کمپنی کی طرف سے بھی ملیں گے، معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ دونوں مذکورہ بالا رقم بیوہ استعمال کر سکتی ہے ؟ اس کا استعمال جائز ہے؟ براہِ مہربانی جواب عنایت فرمائیں۔
نوٹ : جواب تفصیلاً واضح کیجیئے گا ۔ اس بارے میں میرے شوہر نے آپ سے ٹیلیفون پر بات کی تھی آپ نے اس کو جائز قرار دیا تھا،مطمئن نہیں ہوئی ، اس لئے میں آپ سے مسئلہ لکھ کر معلوم کر رہی ہوں ، کیونکہ جب بنوری ٹاؤن سے معلوم کیا تھا تو انہوں نے اس کے استعمال کو جائز قرار نہیں دیا تھا ۔ جس کی وجہ سے ذہنی خلفشار پیدا ہوا تھا ۔ اُمید ہے کہ آپ میری ذہنی الجھن کو دور کر دیں گے ۔ بتاریخ : ۲۶ جولائی ۲۰۱۰ء۔
اس سلسلہ میں سائلہ کے شوہر مرحوم کے فون کا تو علم نہیں، البتہ مذکور فی السوال صورت کے حکم میں قدرے تفصیل ہے، وہ یہ کہ انشورنس کمپنی کے عمومی معاملات ’’ربا و قمار‘‘ اور ’’غرر‘‘ پر مشتمل ہوتے ہیں، جس کی بناء پر کسی انشورنس کمپنی کی کوئی پالیسی خریدنے وغیرہ کی اجازت نہیں دی جاتی ۔ یہ کمپنی خواہ اپنے ملک کی ہو یا دار الکفر وغیرہ کی ہو۔
البتہ اگر کسی نے غلطی سے ایسی کمپنی کی کوئی پالیسی خرید لی ہو، اور پھر پالیسی ہولڈر خود اُسے ختم کرنا چا ہے، یا اس کے انتقال کی صورت میں ورثاء کو یکمشت رقم مل رہی ہو تو وہ اس میں سے صرف اتنی رقم لے سکتے ہیں، جتنی پریمیم کی صورت میں خود پالیسی ہولڈر نے جمع کروائی تھی، اُس سے زائد کا لینا جائز نہیں۔
البتہ مرحوم جس کمپنی میں ملازم تھے ،اگر وہ بچوں کی طرف سے کفیل بن کر متعلقہ انشورنس کمپنی سے رقم لے لیں ،اور پھر یہ رقم اس کمپنی کی رقم کے ساتھ مخلوط ہو جائے، اور اس کے بعد یہ متعلقہ کمپنی مرحوم کے ورثاء کو دید ے ،تو اس صورت میں اجازت ہوگی ورنہ نہیں، اور اگر مرحوم کے ورثاء نے یہ رقم لے لی ہو تو پھر اس زائد رقم کا واقعی مستحقین پر بلانیتِ ثواب صدقہ کرنا لازم ہے۔
اس تفصیل سے بخوبی معلوم ہو گیا کہ غیر مسلم ممالک میں بھی انشورنس پالیسی لینے سے احتراز لازم ہے ۔ الا یہ کہ اگر کسی ملک میں کوئی خاص پالیسی قانوناً لازم ہو تو اس کی مکمل وضاحت کے بعد خاص اس صورت سے متعلق بھی حکمِ شرعی معلوم کیا جا سکتا ہے ۔
قال اللہ تعالیٰ: {وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ } [البقرة: 279]۔
قال للہ تعالیٰ: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275)۔
وفي أحكام القرآن للجصاص: القمار كله من الميسر (إلی قوله) وحقيقته تمليك المال على المخاطرة وهو أصل في بطلان عقود التمليكات الواقعة على الأخطار اھ (4/ 127)۔
في إعلاء السنن: مع ذلك فلاشك في كون التقى عن الربا ولو مع الحربي في دار الحرب أحسن وأحوط وأذكى وأخرى خروجاً من الخلاف، وهو الذى ذهب إليه شيخنا حكيم الأمة وأفتى به واختاره ترجيحا لقول أبي يوسف والجمهور (۱۴/۳۶۰) ۔
وفي الفتاوى الهندية: والسبيل في المعاصي ردها وذلك هاهنا برد المأخوذ إن تمكن من رده بأن عرف صاحبه وبالتصدق به إن لم يعرفه (5/ 349) -
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0