مفتی صاحب! سوال یہ ہے کہ N.F.T جس میں روزانہ کی بنیاد پر ایک تصویر خریدنی ہوتی ہے، پھر اسی تصویر کو آگے بیچنا پڑ تا ہے جس کی بنا پر آپکو کچھ ڈالرز ملتے ہیں اور N.F.T کا اکاؤنٹ آپ کو 30 ہزار روپے میں کھلوانا پڑتا ہے اور اسی طرح اگر آپ کسی دوسرے شخص کو اپنے لنک کے ذریعے N.F.Tمیں ایڈ کرواتےہیں تو اس پر بھی آپ کو کچھ ڈالرز مزید ملتے ہیں اور یہ سب کچھ موبائل میں یا لیپ ٹاپ میں انٹر نیٹ کے ذریعے ہوتا ہے، آپ حضرات اس بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ اس طرح کی آ مدن جائز ہے یا نہیں ؟
نوٹ: تیس ہزار روپے جمع کرواکر رجسٹریشن کروانی پڑ تی ہے ، پھر روزانہ ایک آرٹ نما تصویر بھیجتے ہیں جس کو N.F.T بولا جاتا ہے ، قیمت خرید بھی وہ خو د بتا تے ہیں ، اس میں کمی و بیشی کا کوئی اختیا ر نہیں ہوتا ، جب yes کرکے خرید لیا جائے تو وہ دوبارہ آگے فروخت کرنے کا پوچھتے ہیں ، تو yes کرنے پر وہ تصویر اسی ٹائم فروخت ہو جاتی ہے ، قیمت ِفروخت اور قیمت ِ خرید میں کچھ فرق ہوتا ہے جس کو منافع تصور کیا جاتا ہے ، اسی طرح اس تصویر پر قبضہ وغیرہ کی بھی کوئی ترتیب نہیں۔
واضح ہوکہ نان فنجیبل ٹوکن (NFT) ایک ڈیجیٹل ٹوکن ہے جو آن لائن اثاثوں اور حقوق کی نمائندگی کرتا ہے، جیسے تصاویر، ویڈیوز، گیمز کے کردار، میوزک اور پینٹنگز وغیرہ۔ لیکن NFT کے ذریعے ہونے والے لین دین میں کئی شرعی خرابیاں پائی جاتی ہیں: مثلاً اکثر ناجائز چیزوں (خواتین کی تصاویر، میوزک وغیرہ) کی خرید و فروخت، حقیقی خرید و فروخت کے بجائے کمیشن اور رائلٹی پر مبنی کاروبار، مصنوعی طور پر قیمتیں بڑھا کر دکھاوے کی تجارت، اور یہ سب زیادہ تر ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے ہونا، جو پہلے ہی شرعی طور پر مشتبہ اور مفاسد سے بھرپورہے۔ شریعت کے مطابق خرید و فروخت اسی وقت جائز ہوتی ہے جب چیز حقیقۃً مالِ متقوم ہو، فروخت کرنے والے کی ملکیت اور قبضے میں ہو، خریدار کو اس کے تمام حقوق ملیں اور اس کا استعمال جائز ہو۔ چونکہ NFT میں یہ شرائط پوری نہیں ہوتیں، اس لیے NFT کے ذریعے خرید و فروخت اور پیسہ کمانا ناجائزہے، اس سے بچنا ضروری ہے۔
كما في بدائع الصنائع: ومنها: وهو شرطُ انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكًا للبائع عند البيع، فإن لم يكن لا ينعقد... وهذا بيع ما ليس عنده، ونهى رسول الله ﷺ عن بيع ما ليس عند الإنسان... (ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول، فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي ﷺ «نهى عن بيع ما لم يُقبض» الخ( کتاب البیوع، فصل فی الشرط الذی یرجع الی المعقود علیہ،ج5،ص146،ط:ایچ ایم سعید)۔
وفي الدر المختار: وشرعا: (مبادلة شيء مرغوب فيه بمثله) خرج غير المرغوب كتراب وميتة ودم على وجه) مفيد. (مخصوص) أي بإيجاب أو تعاط، فخرج التبرع من الجانبين والهبة بشرط العوض، وخرج بمفيد ما لا يفيد الخ( کتاب البیوع،ج4،ص 502،ط:ایچ ایم سعید)۔