محترم مکرم جناب مولانا صاحب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں حضرات علمائے کرام شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں درجِ ذیل مسائل کے حل کے بارے میں کہ :
مسئلہ نمبر (1) : ایک مسلمان شادی شدہ عورت جس نے ایک شریف آدمی کے ساتھ زندگی کے ۲۵ سال گزارے ، اس دوران شوہر کے کردار پر کیچڑ اچھالی ، غیبت ، چغل خوری اور عیب جوئی کی ان باتوں کی جو اُس شخص کے کردار میں موجود نہ تھی ، حلقۂ احباب میں بدنام کیا اور اب طلاق کے بعد بھی متعلقہ ادارے سے رابطہ کیا، اور تصویر کا دوسرا رُخ دکھا کر (یعنی اپنے آپ کو مظلوم ظاہر کیا ) فتوی لے رہی ہے۔ اس سلسلے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟
مسئلہ نمبر (۲) :- میں یعنی کہ سائل ناروے میں مقیم ہوں ،اور اپنے لے پالک بیٹے کا (جو کہ بیوی کا بھتیجا ہے) ماہانہ 35 ہزار خرچ دیتا رہا ہوں ، وہ مجھے اُس سے ملنے نہیں دیتی ، حتی کہ فون پر بھی بات نہیں کرنے دیتی، اس سلسلے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟
مسئلہ نمبر (۳) : سائل کے خُسر کے ڈی اے میں ملازمت کے دوران رشوت لیتے رہے ہیں، اور سائل بھی جب ( جب کہ گھریلو تنازعات نے جنم نہ لیا تھا ) اُن کے گھر قیام کیا کرتا تھا ، اس دوران رشوت کی آمدنی سے جو کچھ تصرف کیا گیا ، اُس کا ازالہ کیسے ممکن ہے ؟
(۴) :سائل کی زوجہ محترمہ (مطلقہ) نے سائل کی خریدی ہوئی تمام جائیداد (جو کہ چار عدد مکانات پر مشتمل ہے) باپ کا تحفہ ظاہر کر کے اور باپ نے بھی اس کو اس معاملے میں مدد دی اور اب تمام جائیداد کا کنٹرول اُن کے پاس ہے ،اور وہ ہی کرا یہ وغیرہ وصول کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں شریعت کیا کہتی ہے ؟
مسئلہ نمبر (۵) : مرد کی غیر موجودگی میں عورت نے علیحدگی کی درخواست دی اور یورپ کے قوانین جو کہ خواتین کو نا جائز تحفظ فراہم کرتے ہیں ، سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے گھر کا بیش ترقیمتی سامان اپنے ساتھ لے گئی ، نہ صرف سامان بلکہ مکان خالی کرنے کے بھی ۷۵ ( پچہتر ) لاکھ روپے لئے جبکہ مکان بھی مرد نے خریدا تھا شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے ؟
مسئلہ نمبر (۶) : شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے کہ اگر عورت اپنی خواہش سے نوکری کرے، اور اپنی کمائی سے اپنے والدین اور بہن بھائیوں کی مدد کرے اور اس کے باوجود مرد کو بد نام کرے (جب کہ مرد اپنی کمائی سے گھر اور دیگر اخراجات پورے کرتاہے) کہ وہ عورت کی کمائی کھا رہا ہے اور یہ اس وجہ سے کیا گیا کہ مرد پر معاشرتی و مذہبی دباؤ ڈالا جا ئے تاکہ مرد زبان نہ کھول سکے اور نان نفقہ کے علاوہ دیگر مادی خواہشات بھی پورا کرتا رہے ، اور سسرال والوں کے لئے تحفے وغیرہ بھی خریدتا رہے۔ خاوند شریف آدمی ہے اور اُس کے ہر قسم کے دباؤ کو صبر و تحمل سے برداشت کیا۔ اس کے باوجود اگر عورت اور سسرال والے اُسے بدنام کریں تو شریعت اس بارے میں کیا حکم ہے ؟
مسئلہ نمبر (۷ ) : شادی کے بعد سائل نے پاکستان اور یورپ میں جائیدادیں خریدیں اور بیوی پر اعتماد کرتے ہوئے اُس نے جائیدادیں بیوی کے نام سے خریدیں اور ادائیگی اپنے پیسوں سے کی، جس کا ثبوت شوہر کے پاس ہے ، لیکن بیوی اور اُس کے گھر والوں نے ملی بھگت کے ساتھ شوہر سے طلاق کا مطالبہ کر دیا اور شوہر نے جو زیورات اور چیزیں دیں تھیں، وہ بھی اپنے پاس رکھ لیں، شوہر نے اللہ کا خوف دلایا کہ اُس کی جائیداد اور دیگر چیزیں طلاق کے بعد واپس کر دیں مگر بیوی اور اس کے گھر والوں نے نہ جائیداد واپس کی اور نہ ہی زیورات وغیرہ ، اور کورٹ میں جھوٹ بول کر تمام جائیداد وغیرہ حاصل کرلئے۔ یورپ کی کورٹ مسلمان عورت کو زیادہ مراعات دیتی ہے جس کا فائدہ اُٹھا کر میری سابقہ بیوی نے ہر چیز پر قبضہ کر لیا اور اس کے گھر والوں نے بھی اُس کا ساتھ دیا ۔ اب سائل شریعت کی روشنی میں یہ دریافت کرنا چاہتا ہے کہ جائیداد اور زیورات کی ناجائز محرومی اور ناجائز قبضہ کے متعلق شریعتِ مطہرہ کیا کہتی ہے اور سائل کو کیا کرنا چاہیے ؟
مسئلہ نمبر (۸) : سابقہ بیوی طلاق کے بعد موجودہ بیوی پر بے بنیاد الزام لگا رہی ہے کہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہے اور اُس کے بچے بھی ہیں اور وہ ناروے میں رہائش کا مستقل ویزا حاصل کر کے اپنے اصلی شوہر اور بچوں کو ناروے بلانا چاہتی ہے جبکہ موجودہ بیوی نے پہلے کبھی بھی شادی نہیں کی ۔ اور مطلقہ بیوی ، موجودہ بیوی اور اُس کے شوہر (سائل) کو ذہنی کوفت پہنچانے اور رنقصان پہنچا نے کے بہانے تلاش کرتی ہے ، اس سلسلے میں شریعت کیا کہتی ہے اور کیا شوہر اور بیوی اس سلسلے میں انتقام لے سکتے ہیں یا صبر کریں ؟ جواب سے آگاہ فرمائیں۔
(۱) : صورتِ مسئولہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس طور پر کہ سائل کی مطلقہ بیوی اپنے جھوٹے ,غلط اور بے جا الزامات کی بنیاد پر اپنے شوہر کے خلاف فتوی لینا چاہتی ہو تو اس کا یہ طرزِ عمل سخت ناجائز اور غیر شرعی ہے، وہ اس کی وجہ سے گناہ گار ہو رہی ہے، اس پر لازم ہے کہ راست گوئی کو اپنا شعار بنائے ،اور غلط بیانی اور جھوٹ وغیرہ ناجائز امور سے مکمل اجتناب کرے۔
(۲) :مذکور لے پالک لڑکا سائل کا حقیقی بیٹا نہیں، اور نہ ہی اس سے متعلق سرکاری و غیر سرکاری دستاویزات میں سائل کیلئے اپنی ولدیت ظاہر کرنا جائز ہے، اور نہ یہ لڑکا اس کا وارثِ شرعی ہے، اس لئے سائل کو بلا وجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں جو وہ خرچ کر چکا اس پرا سے اجر و ثواب ملے گا اور آئندہ کیلئے مزید خرچ کرنا اس پر شرعاً لازم بھی نہیں۔
(۳) :سائل پر توبہ و استغفار لازم ہے، جبکہ آئندہ کیلئے اس قسم کی حرام آمدنی والے شخص کی دعوت قبول کرنے اور اس سے ہدیہ وغیرہ وصول کر نے سے احتراز واجب ہے۔
( ۴تا ۸) :یہ سارے بیانات اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہوں ،تو اس صورت میں سائل کی مطلقہ بیوی اور دیگر سسرال والوں پر لازم ہے کہ جتنی چیزیں اور اموال و جائیداد وغیرہ انہوں نے سائل سے ناجائز طریقہ پر حاصل کیے ہیں، وہ سب سائل کو واپس لوٹا دیں کیونکہ اس طرح کے ناجائز تسلط کے باوجود کوئی شخص اس مقبوضہ چیز کا شرعاً مالک نہیں بن سکتا، بلکہ احادیثِ مبارکہ میں ایسے شخص کے متعلق جو دوسروں کے حقوق پر ناجائز قبضہ جمالے اور غصب کر لے بڑی سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
اس لئے سائل کی مطلقہ بیوی اور سسرال کے دیگر افراد پر لازم ہے کہ وہ سائل کے تمام حقوقِ مالیہ اسے واپس لوٹا کر مؤاخذۂ دینوی و اخروی سے سبکدوشی کی فکر کریں ورنہ وہ اپنے ان تمام حقوق کے حصول کی خاطر قانونی چارہ جوئی کا بھی مجاز ہے۔ اس طرح سائل کے ذاتی سامان سے جو بلا اجازت اٹھا کر لے گئی ہے یا مکان خالی کرنے پر جو رقم لی ہے یہ بھی خالص سائل کا حقِ مالی ہے اور اسے بد نام کرنے کیلئے جو کوششیں کی ہیں جس سے اسے یا اس کی دوسری بیوی یا مالی طور پر کوئی نقصان ہوا ہو یہ سب نا جائز و حرام ہوا، ان پر لازم ہے کہ اولاً تو سائل اور دیگر جن جن افراد کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے، ان سے معذرت کریں اور ثانیاً یہ کہ اس دوران ان کا جتنا مالی نقصان ہوا ہو اور وہ ان کی شرارتوں کی بناء پر ہوا ہواس کی تلافی بھی کریں اور ثالثاً یہ کہ آئندہ کیلئے ایسی ناجائز و حرام حرکات سے مکمل احتراز بھی کریں۔ اسی طرح حق مہر کے علاوہ جو زیورات سائل نے محض پہننے اور استعمال کرنے کیلئے دیے ہوں باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ ہبہ نہ کیا ہو وہ بھی اسے واپس لوٹائیں ۔ جبکہ سائل کیلئے اس رویہ پر صبر کرنا بہتر اور قانونی ردعمل جائز ہے ۔
فی صحيح مسلم: عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «إن العبد ليتكلم بالكلمة، ما يتبين ما فيها يهوي بها في النار أبعد ما بين المشرق والمغرب» (4/ 2290)-
و فی شرح النووي على مسلم: تحت وكالكلمة تقذف أو معناه كالكلمة التى يترتب عليها إضرارمسلم ونحو ذلك (18/ 117)-
و فی سنن الترمذي: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (إلی قوله) ومن ادعى إلى غير أبيه أو تولى غير مواليه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين اھ (4/ 438)۔
و في حاشية ابن عابدين: وفي الذخيرة: سئل أبو جعفر عمن اكتسب ماله من أمر السلطان والغرامات المحرمة، وغير ذلك هل يحل لمن عرف ذلك أن يأكل من طعامه؟ قال: أحب إلي في دينه أن لا يأكل ويسعه حكما إن لم يكن غصبا أو رشوة اهـ (6/ 386)۔
وفى مشكاة المصابيح: عن سالم عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من أخذ من الأرض شيئا بغير حقه خسف به يوم القيامة إلى سبع أرضين " . رواه البخاري (2/ 168)۔
وفيه ايضاً: وعن يعلى بن مرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من أخذ أرضا بغير حقها كلف أن يحمل ترابها المحشر" . رواه أحمد (2/ 168)-
وفی مشكاة المصابيح: وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى (2/ 889)
وفي الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: أن يكون الموهوب متميزاً عن غيره، ليس متصلاً به، ولا مشغولاً بغير الموهوب: لأن معنى القبض، وهو التمكن من التصرف في المقبوض لا يتحقق مع شغل الموهوب بغيره (1) وهذا شرط صحة للهبة اھ (5/ 3993)-