کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے قسطوں پر موٹر سائیکل نکلوائی، جس کی رقم ۵۹۰۰۰ روپیہ ہے, قسط والے نے مجھے کہا کہ اگر تمہاری گاڑی چوری ہو گئی ،تو اس کے لئے شرط یہ ہو گی کہ ۲۵۰۰ روپیہ اپنے نام کرانے کے اور۰۰ ۳۵ انشورنس کے، اور آپ نے جو گاڑی تقریباً چار ماہ یا پانچ ماہ چلائی، ۶۰۰۰ ہزار روپیہ اس کے آپ کو ادا کرنے ہوں گے، تب نئی گاڑی آپ کو ملےگی، میں نے ایڈوانس ۱۲۰۰۰ ہزار اور ۴ قسطیں اور ادا کیں ،جبکہ ٹوٹل رقم ۲۶۰۰۰ ہزار ادا کی۔ اور قسط والے نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ نے گاڑی نہیں نکلوائی یہ رقم یعنی ۲۶۰۰۰ ہزار آپ کو نہیں ملےگی۔
اب مجھے بغیر انشورنس نکلوائی پڑتی ہے، تو ۱۲۰۰۰ ہزار ایڈوانس ۳۳۰۰۰ بھرنے ہوں گے، جو کہ پچھلے گاڑی کے ادا کرنے ہیں تو نئی گاڑی اس رقم ۳۳۰۰۰ والی رقم کے عوض میں لینا جائز ہے یا نہیں ہے؟
مروّجہ انشورنس کمپنیوں کے معاملات ربا وقمار اور غرر پر مشتمل ہوتے ہیں، اس لئے ان سے احتراز لازم ہے، البتہ یہ معاملہ اگر بجائے انشورنس کمپنی کے کسی تکافل کمپنی کے ساتھ اصولِ شرعیہ کے موافق کر لیا جائے، یا انشورنس وغیرہ کے بغیر محض قسطوں پر خرید وفروخت یا نقد لین دین کا معاملہ کر لیا جائے، تو یہ زیادہ بہتر ہے، اس میں رقم خواہ تھوڑی دینی پڑےیا زیادہ، البتہ اس طرح معاملہ انجام دینے میں بھی شک وشبہ ہو تو وضاحت کے بعد اس سے متعلق حکمِ شرعی معلوم کیا جا سکتا ہے۔
قال للہ تعالیٰ: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275)۔
وفي أحكام القرآن للجصاص: وقال عثمان وجماعة من الصحابة والتابعين النرد وقال قوم من أهل العلم القمار كله من الميسر (إلی قوله) وحقيقته تمليك المال على المخاطرة وهو أصل في بطلان عقود التمليكات الواقعة على الأخطار اھ (4/ 127)-
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0