گناہ و ناجائز

کرپٹڈ سوفٹویئر کی خرید وفروخت کا حکم

فتوی نمبر :
81100
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کرپٹڈ سوفٹویئر کی خرید وفروخت کا حکم

السلام علیکم آپ سے جس مسئلہ کے متعلق دریافت کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ آج کل ایسی مشینوں کا استعمال ہو رہا ہے، جن کو کمپیوٹر کے ذریعے چلایا جاتا ہے، یہ آٹو میٹک مشینیں خود کار ہوتی ہیں، اور ان ہدایات پر مصنوعات کو تیار کرتی ہیں، جو انسان ان کو دیتا ہے، بذریعہ کمپیوٹر اب مسئلہ یہ ہے کہ ان ہدایات کو جس ذریعہ سے کمپیوٹر میں منتقل کیا جاتا ہے ،وہ کمپیوٹر پروگرام ہے ،اگر کمپیوٹر پروگرام نہ استعمال کیا جائے ،تو مشین کا خودکار نظام چلانا دشوار ہو جائے،اب اس سارے عمل میں استعمال ہونے والا کمپیوٹر پروگرام سی ڈی کی شکل میں بازار میں دستیاب ہے، بہت ہی ارزاں نرخ پر جو کہ اصل سی ڈی کی نقل ہوتا ہے،جبکہ اصل سی ڈی کی قیمت بہت زیادہ ہے ،جو کہ پروگرام بنانے والی کمپنی وصول کرتی ہے، مثال کے طور پر ابتدائی درجے کا پروگرام 5 سال پہلے ڈھائی لاکھ روپے کا تھا ،اور دوسرے درجے کا پروگرام ساڑھے سات لاکھ کا تھا، پھر اسی پر بند نہیں ہے، اور بہت سے پروگرام استعمال کرنے بھی پڑ سکتے ہیں، جو کہ کافی زیادہ رقم ہے،آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ کیا ان اصل پروگرام کی نقل کو جو بازار میں دستیاب ہے یا اصل سی ڈی سے نقل بنا کر کام میں لا سکتے ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر متعلقہ کمپنی نے ان پروگراموں اور سوفٹ وئیر کی بلا اجازت کاپی کرنا ممنوع قرار دیا ہو تو اس صورت میں اس طرح کے سوفٹ وئیر اور پروگرام کی کاپی کر کے خرید و فروخت کرنا درست نہیں ،اس سے احتراز لازم ہے۔ تاہم اگر کسی نے خرید لیا ہو تو اس کی خرید شدہ کے استعمال کی گنجائش ہے، اگر چہ خلاف قانون کا گناہ ہو گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن أبي داود: أسمر بن مضرس، قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فبايعته، فقال: «من سبق إلى ماء لم يسبقه إليه مسلم فهو له» اھ (3/ 177) والله تعالى أعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شمس الرحمن فضل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 81100کی تصدیق کریں
0     744
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات