گناہ و ناجائز

کمپنی کی رقم چوری ہونے کی صورت میں اس کا ضمان دوسرے پر ڈالنا

فتوی نمبر :
81121
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کمپنی کی رقم چوری ہونے کی صورت میں اس کا ضمان دوسرے پر ڈالنا

میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں، مجھے اپنی ضرورت کے تحت روپیہ کی ضرورت تھی، میں نے فیکٹری کے کیشئیر سے روپیہ مانگے ،تو انہوں نے کہا کہ اس وقت رقم موجود نہیں، کل صبح آپ لے لیجیےگا، جس کی وجہ سے میں نے اپنا ایک چیک اتنی رقم کا جتنی مجھے درکار تھی، میرے پاس موجود تھا، کیونکہ بینک کے اوقات ختم ہو چکے تھے، اسی وجہ سے میں نے فیکٹری کے کیشئیر سے رقم مانگی، وہ دے کر مطلوبہ رقم ان سے لے لی ،اور میں نے کہا کہ آپ یہ چیک کل کیش کر کے اپنی رقم واپس لے لیجیےگا، دوسرے روز جب فیکٹری کا آدمی میرا چیک جو کہ میں نے ان کو دیا تھا ،اور کچھ اور چیک لے کر بینک گیا، چیک کیش ہو گیا اور جب وہ باہر نکلا تو راستے میں تمام رقم کو لوٹ لیا گیا، جب یہ معاملہ فیکٹری کے مالک کے علم میں آیا تو انہوں نے کہا کہ یہ جن کا بھی چیک ہے ان کے ذمہ یہ رقم لکھ دیں۔ اب آپ برائے مہربانی فرما کر دین اسلام کی روشنی میں یہ تحریر کریں کہ یہ رقم کس کے ذمہ ہے ؟ فقط

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ اگر واقع کے مطابق ہے، تو اس صورت میں سائل مذکور رقم کے عوض چیک دینے کی وجہ سے شرعاً بری الذمہ ہو گیا ہے، اب رقم کے چِھن جانے کی صورت میں فیکٹری کے مالک کا مذکور فیصلہ بہرحال ناجائز اور دوسروں کے حقوق غصب کرنے کے مترادف ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے مذکور ناجائز رویّہ سے مکمل احتراز کرے ،ورنہ مؤاخذۂ خداوندی سے چھٹکارہ نہ ہو سکےگا۔ البتہ رقم کا چِھن جانا اگر بینک سے کیش لانے والے کی سستی وکوتاہی کی وجہ سے ہوا ہے، تو وہ اس پوری رقم کا ضامن ہے ورنہ نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الدر المختار: (فلا تضمن بالهلاك) (إلی قوله) لحديث الدارقطني: «ليس على المستودع غير المغل ضمان» (5/ 664) -

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد نعیم اسلم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 81121کی تصدیق کریں
0     702
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات