السلام عليكم و رحمة الله و بركاته!
١- باپ نا ہو اور بھائ بہن کا ولی ہو تو کیا اس کو بھی ہاتھ اٹھانے کی اجازت ہے ،جیسے باپ ا و رشوہر کو ہے ؟٢ - ولی اگر چھوٹا بھائی ہو یا بیٹا بھتیجا وغیرہ ان کی اجازت بھی لینی ہوگی عورت کو گھر سے باہر جانے کے لۓ ؟
شریعت مطہرہ نے صرف شوہرکو اصلاح کی نیت سے خفيف تأديب کی اجازت دی ہے، وہ بھی آخری درجہ میں، یعنی اگروعظ و ہجر (علیحدگی) کارگر نہ ہو۔ اس کے علاوہ کسی اور ولی (مثلاً بھائی یا بیٹا) کو عورت پرہاتھ اُٹھانے ،مارپیٹ کرنے یازبردستی کا کوئی شرعی حق حاصل نہیں۔جبکہ عاقلہ، بالغہ عورت اگر شرعی حدود (پردہ،محرم) کاخیال رکھتے ہوئے گھر سے باہر جائے اورباہرجانافتنہ سے خالی اور جائز مقصد کے لیے ہو، تو بھائی، بیٹے یا بھتیجے کی اجازت لینالازم وضروری نہیں، تاہم اگرسفر،شرعی مسافت کے بقدر ہو یاگھرسے باہرجانےمیں کسی قسم کے فتنہ کا اندیشہ ہوتواس صورت میں ولی /سرپرست کی اجازت کے بغیرنکلنامناسب نہیں ،جس سے احترازچاہیے ۔