السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
میرے بیٹے کا انتقال ہوا ہے،ان کی بیوہ اور تین بچے ہیں،جبکہ ہمارا گھر کا نظام اجتماعی ہے،بیوہ کی عدت کے متعلق معلوم کرنا ہے کہ آیا بیوہ اپنی عدت اپنی والدہ کے گھر میں پوری کرسکتی ہے؟والدہ کے گھر میں پردے کا انتظام بھی ہے اور علیحدہ گھر ہے،جبکہ مرحوم شوہر کے گھر میں اجتماعی نظام کی وجہ سے اور بھائی بھی رہائش پذیر ہیں اور ان کے بڑے بچے بھی ہیں۔
(1)مرحوم کے گھر میں Joint Family system ہے اور بیوہ کے جوان دیور بھی ہیں،گھر بہت چھوٹا ہے،یعنی دوکمرے اور ایک باتھ روم ہے۔
(2)بیوہ کی شادی کراچی میں ہوئی تھی،مگر بعد میں سوات اپنے آبائی گاؤں Shift ہوگئے تھے،بیوہ سوات میں اپنے والد کے گھر پر رہتی تھی اور شوہر چونکہ بیمار تھا،ان کا علاج بھی وہیں چل رہا تھا۔
(3)متوفی کے بچوں میں ایک بڑا بیٹا آٹھ(8) سال کا ہے ،بیٹی سات(7)سال کی ہے اور تیسرا بیٹا ابھی گود میں ہے،ان میں دو(2) بچوں کا تعلیمی سلسلہ سوات میں چل رہا ہے،اب جبکہ شوہر کا گھر کراچی میں ہےاور فوتگی اور تدفین یہاں کراچی میں ہوئی ہے۔
لہذا آپ حضرات سے درخواست ہے کہ شریعت کی رو سے بیوہ اپنے والدین جو سوات میں رہائش پذیر ہیں اور متوفی کے بچوں کا تعلیمی سلسلہ بھی سوات میں جاری ہے تو بیوہ اپنی عدت کے دن والدین کے گھر پر گزار سکتی ہے؟رہنمائی فرمائیں۔
نوٹ: مرحوم کا کراچی میں والدین کے گھر میں ایک کمرہ تھا،جس میں وہ اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا اور اب بھی اس کا سامان وغیرہ اس میں موجود ہےاور شوہر کا انتقال کراچی میں ہوا ہے اور اس کے انتقال کے وقت بیوہ بھی ان کے ساتھ یہاں موجود تھی اور اب بھی یہاں ہے۔
واضح ہوکہ شوہر کے انتقال کرجانے کے بعد بیوہ پرعدت اپنے مرحوم شوہر کے گھر پر ہی گزار نالازم ہوتاہے، بشرطیکہ شوہر کے گھرمیں اسے عفت اور عصمت کا کوئی خطرہ نہ ہو،جبکہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں پردہ کی تفصیل یہ ہے کہ عورت کو چاہیئے کہ وہ گھر میں بڑی چادر کا استعمال اس طور پر کرے کہ بال سمیت جسم کے دیگر اعضاء مکمل طور پر ڈھک جائیں،ہتھیلیاں،پاؤں اور چہرہ کھلا رکھ کر امور خانہ داری انجام دینا چاہے،تو دے سکتی ہے اور ضرورت کے مواقع پر بقدرِ ضرورت غیر محرم دیور وغیرہ سے بات چیت کرنے کی بھی گنجائش ہوگی،لیکن نامحرموں سے بے تکلفی،ہنسی مذاق کرنا درست نہیں،نیز گھر کے مرد حضرات کو بھی چاہیئے کہ گھر آتے جاتے وہ گلا کھنکھارنے وغیرہ کے ذریعہ اپنے آنے کی اطلاع دے دیا کریں،تاکہ عورتوں کے لئے پردہ کا اہتمام کرنا ممکن ہوسکے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں درج بالا حدود کی رعایت کرتے ہوئے سائل کی بہو پر یہیں کراچی میں شوہر کے گھر پر ہی عدت گزارنا لازم ہے،البتہ عدت کے ایام گزرنے کے بعد وہ رہائش کے سلسلہ میں فیصلہ کرنے میں آزاد ہوگی۔
کمافی الدرالمختار:(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه الخ اھ(3/536)۔
وفی البحر الرائق: (قوله وتعتدان في بيت وجبت فيه إلا أن تخرج أو ينهدم) أي معتدة الطلاق والموت يعتدان في المنزل المضاف إليهما بالسكنى وقت الطلاق والموت ولا يخرجان منه إلا لضرورة لما تلوناه من الآية اھ(4/167)۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0