السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
میں نے تین طلاق کی عدت کے دوران دوسرا نکاح کرلیا، جبکہ میرے گھروالوں یا میرے ہونے والے شوہر کو اس کا علم نہیں تھا،مجھے بعد میں پتہ چلا کہ یہ غلط ہوا ہے،لیکن میں کسی کو بتا نہ سکی،کیونکہ پہلےوالا نکاح میں نے اپنی مرضی سے کیا تھا اور اس شخص سے کافی مرتبہ ہمبستری بھی ہوتی رہی تھی۔
اب میرے دوسرے شوہر سے بھی رخصتی سے پہلے ہی جسمانی تعلقات جاری ہیں،تو کیایہ میرے لئے جائز ہے اور اگر میں اب کئی مہینے گزرنے کےبعد اسی شوہر سے تجدیدِ نکاح کرنا چاہوں تو کیا مجھے نئے سرے سے عدت گزارنی ہوگی؟ یا میں ویسے ہی تجدیدِ نکاح کرسکتی ہوں ؟ کیونکہ اس طلاق کو اب کافی عرصہ گزرچکا ہےاور مطلب ہم حرام میں رہتے رہے ہیں،پلیز تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔
سائلہ کا اس طرح والدین سے چھپ کر نکاح کرنا بڑی بے شرمی اور جسارت پر مبنی عمل تھا، جس پر سائلہ کو ندامت کے ساتھ ساتھ آئندہ کے لئے احتراز لازم ہے،تاہم اگر پہلا خاوند سائلہ کا کفؤ ہو اور نکاح باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں ایجاب وقبول کے ساتھ ہوا تھا تو یہ نکاح درست منعقد ہوچکا تھا، پھر اگر پہلے خاوند نے تین طلاقیں دیدی ہوں تو سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے اور سائلہ پر عدت لازم تھی، دوسرا نکاح جو دورانِ عدت ہوا ہے،اگر دوسرے خاوند کو اس کا علم نہیں تھا اور سائلہ نے اصل صورتحال سے بے خبر رکھ کر اس کے ساتھ نکاح کیا ہے تو یہ دوسرا نکاح شرعاً درست منعقد نہیں ہوا،بلکہ یہ نکاح فاسد ہے،لہذا اس دوسرے خاوند پر لازم ہے کہ الفاظِ متارکت مثلاً "میں تمہیں چھوڑتا ہوں" وغیرہ کہہ کر سائلہ کو چھوڑ دے،تاکہ عدت کے بعد سائلہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو۔
تاہم اگر سائلہ اسی دوسرے خاوند کے ساتھ ہی رہنا چاہتی ہو اور پہلے خاوند کے طلاق دینے کے بعد سے اب تک تین ماہواریاں گزر چکی ہوں تو فی الفور باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب وقبول کرتے ہوئے تجدیدِ نکاح کے بعد ساتھ رہ سکتے ہیں،جبکہ آئندہ دوبارہ اس طرح کے حرام اور ناجائز کاموں سے مکمل اجتناب لازم ہے۔
کمافی الشامیة: أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا، فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة اھ(3/516)۔
وفی الھندیة: المطلقة إذا حاضت حيضة، ثم تزوجت بزوج آخر ووطئها الثاني وفرق بينهما وحاضت حيضتين بعد التفريق كان لهذا الزوج الثاني أن يتزوجها لانقضاء عدة الأول وليس لغيره أن يتزوجها حتى تحيض ثلاث حيض من وقت التفريق لقيام عدة الثاني في حق الغير اھ(1/532)۔
وفی البحر الرائق: أما إذا حاضت حيضة بعد وطء الثاني قبل التفريق فإنها من عدة الأول خاصة وبقي عليها من تمام عدة الأول حيضتان اھ(4/156)۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0