محترم جناب مفتی صاحب ! میر نام زکریا ہے اور کراچی میں رہتا ہوں اور دیو بندی مکتبِ فکر کے ساتھ میرا تعلق ہے ۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کہ کمپیوٹر کے کاروبار اور کمپیوٹر نیٹ کیفے کے متعلق شرعی حکم کیا ہے ؟ اس لئے کہ بہت سے لوگ کمپیوڑ اور نیٹ دونوں کو غلط استعمال کرتے ہیں ۔ اس میں کرپشن کا ایک سلسلہ ہے ۔ اگر میں ایک نیٹ کیفے کھولوں تو اگر چہ وہ فائدہ مند ہے، لیکن دوسرے لوگ اسے صحیح استعمال نہیں کرتے ۔ اس صورتِ حال میں میرے لئے آپ کی کیا تجویز ہے؟ کہ کروں یا نہ کروں؟ ان چیزوں کی کمائی کی پاکیزگی پر مجھے شک ہے۔ براہِ کرم جواب جلدی ارسال فرمائیں۔
واضح ہو کہ انٹر نیٹ کیفے کی اصل وضع چونکہ تخریبی اور فخش مقاصد کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ معلومات حاصل کرنے میں سہولت پیدا کرنے کے لئے ہے، مگر اب لوگوں نے اس کو تخریبی اور ناجائز و فحش مقاصد کے لئے بھی استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ انٹرنیٹ سروس فراہم کر نیوالے ادارے کی حیثیت اس سلسلہ میں محض ذریعہ کی ہے۔ باقی استعمال کا سارا دارو مدار استعمال کرنیوالے پر ہے۔ اس لئے انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کا کاروبار جائز ہے، اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال ہے، تاہم چونکہ اس کی بعض صورتوں میں نا جائز کام کے لئے ذریعہ بننا پڑتا ہے اس لئے اس کاروبار سے بچنا بہتر ہے۔ ( ماخوذ از جدید تجارت: ۱۳۴) -