دو لوگ آپس میں ایک پلازہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں، ان میں سے کونسی صورت حلال ہے؟(١) جس شخص کی زمین ہے وہ اس کی کوئی قیمت نہیں طے کر ے، پھر دوسرا شخص جو تعمیر کرے، وہ اس طرح کی جو لاگت آئے گی اس پر وہ کچھ فیصد اضافہ کرے، جیسے اگر لاگت 1کروڑ آگئی تو 1کروڑ 30 لاکھ ہوں گے 30 فیصد اضافہ کے بعد، پھر اس اضافی قیمت کے عوض پہلا فریق دوسرے کو اسی پلازہ میں زمین دے؟(٢) دوسری صورت میں سب کچھ پہلی صورت ہی کی طرح رہے ،سوائے یہ کہ جو قیمت آئے تعمیر میں اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے اور آنے والی قیمت کے عوض پہلا شخص دوسرے کو پلازہ میں زمین دے؟نیز کیا یہ صورتیں شرکت ہیں یا سود؟اس کام کو کرنے کی حلال صورت؟جزاک اللہ
سائل نے سوال میں دو افراد کے درمیان ہونے والے معاملے کی جو صورت ذکر ہے،اس میں اگر پلازہ تعمیر کرنے سے قبل زمین کے مالک اور پلازہ تعمیر کرنے والے شخص کے درمیان کوئی عقد نہ ہوجائے بلکہ زمین کے مالک کی اجازت سے دوسرا شخص اس پر پلازہ تعمیر کرے تو ایسی صورت میں زمین حسب سابق مالک کی ملکیت ہوگی،اور پلازے کی تعمیر دوسرےشخص کی ملکیت ہوگی،چنانچہ اس کے بعد اگر پلازہ تعمیر کرنے والا شخص، پلازہ کی تعمیر پر آنے والی لاگت کے حساب سے یا پلازے کی قیمت، لاگت سے کچھ زیادہ مقرر کرکے اسمیں زمین کے مالک کو شریک کرے اور اس کے عوض وہ خود زمین میں شریک ہوجائے،اور یہ معاملہ باقاعدہ ایجاب و قبول کے ساتھ باہمی رضامندی سے طے ہوجائے تو یہ سودی معاملہ نہیں بلکہ یہ دونوں صورتیں شرعا جائز اور دوست ہے۔
کما فی رد المحتار:وأما البناء فذكر الطرسوسي أنه إما أن تكون الأرض لهما أو لغيرهما أو لأحدهما، فإن كانت لهما ففي المحيط أنه لو باع أحدهما حصته من البناء فقط لأجنبي لم يجز ولو بإذن الشريك؛ لأن للبائع مطالبته بالهدم وكذا لو كان الكل له فباع نصفه من رجل؛ لأن المشتري يطالبه بالهدم فيتضرر البائع فيما لم يبعه، ولو باع من شريكه في رواية جاز، وفي أخرى لا واختارها أبو الليث؛ لأن البائع يطالبه بتفريغ نصيبه من الأرض وإن كانت الأرض لغيرهما ففي البدائع والخلاصة: لو باع لأجنبي لم يجز؛ لأنه لا يمكنه تسليمها إلا بضرر وهو نقض البناء، ومقتضاه أنه لشريكه يجوز، لكن ينبغي حمله على ما لا ضرر فيه كما لو استعارها للبناء مدة ومضت المدة؛ لأن البائع لا حق له في الأرض فلا يمكنه مطالبة المشتري بالقلع (الخ ج:4،ص:302،ط:ایچ ایم سعید)۔
وفی بحوث في قضايا فقهية معاصرة:أما إذا كان المقصود بناء البيت على أرض خالية، فيمكن استخدام نفس الطريق في شراء الأرض، بأن يقع شراؤها على سبيل الاشتراك من الممول والعميل، ثم يبيع الممول حصته في الأرض إلى العميل مؤجلا بثمن أكثر. فإن كانت الأرض مملوكة للعميل، أو صارت ملكا له بهذا الطريق وأراد العميل التمويل للبناء عليها، فإنه يمكن للممول والعميل أن يبنيا البيت على أساس المشاركة، فيدفع هذا نصف نفقة البناء، ويدفع ذلك النصف الآخر، فيقع البناء مشاعا بينهما بالنصف، وحينما يتم البناء يمكن للممول أن يبيع حصته من البناء إلى شريكة العميل مؤجلا بربح، وبيع الرجل حصته من البناء إلى شريكه مما لا نزاع في جوازه، وإن كان هناك خلاف في بيعها إلى الأجنبي، يقول ابن عابدين في رد المحتار: (ولو باع أحد الشريكين في البناء حصته لأجنبي، لا يجوز، ولشريكه جاز) الخ(ص:248،ط:دار القلم - دمشق)
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0