جناب محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
معلوم یہ کرنا ہے کہ اگر کسی شخص کی ہیلتھ (صحت) انشورنس ہو اور اس مد میں انشورنس کی رقم ملے کیا اس رقم کو زکوٰۃ کی رقم کے ساتھ ملا کر اچھے کاموں میں استعمال کر سکتا ہے؟ براہِ کرم قرآن وسنت کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں۔
نوٹ: ایک لائف انشورنس ہوتی ہے، ایک صحت کی انشورنس ہوتی ہے۔
واضح ہو کہ انشورنس کمپنیوں کا بیشتر کاروبار سودی اور دیگر غیر شرعی معاملات پر مبنی ہوتاہے، اس لئے ان کی ہیلتھ انشورنس پالیسی لینا بھی شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔ اور اگر کسی نے یہ پالیسی لے لی ہو تو بوقتِ ضرورت اس سے اتنا ہی فائدہ اُٹھا سکتا ہے جتنا پریمیم کی صورت میں وہ جمع کروا چکا ہے، لہٰذا سائل کو چاہئیے کہ وہ مذکور پالیسی کو بند کر دے اور اگر وہ اپنی جمع شدہ رقم کے برابر متنفع ہو چکا تو بہتر ورنہ اتنی رقم وہ واپس لے لے۔
کما فی تنزیل العزیز:احل اللہ البیع وحرم الربوا(البقرۃ:275 الآیۃ)
وفی مرقاۃ المفاتیح: عن جابر رضی اللہ عنہ قال : لعن رسول اللہ ﷺ آکل الربوا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ،وقال:ھم سواء(6/51)
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1