کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے کہ ہم تین بھائی مشترکہ طور پر کاروبار کرتے ہیں اور سب اکھٹے ایک گھر میں رہتے ہیں اب میرا جو بڑا بھائی ہے اس کا ایک بیٹا یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ میرا حصہ دے دو ! میں آپ لوگوں کے ساتھ رہنا نہیں چاہتا، جبکہ بڑا بھائی زندہ ہے اور وہ اپنے حصے کا مطالبہ نہیں کر رہا۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا مذکور بیٹا اپنے والد کی زندگی میں اپنے حصے کا مطالبہ کر سکتا ہے یا نہیں ؟
جب یہ کاروبار سائل اور اُس کے دوسرےدو بھائیوں کے درمیان مشترک ہے، تو مذکور بھتیجے کا مطالبہ قطعاً درست نہیں، اُسے اپنے اس مطالبہ سے احتراز لازم ہے۔ تاہم مذکور بھتیجا کاروباری معاملات میں شریک رہا ہو، اور اُسے یومیہ یا ماہانہ جیب خرچی کے علاوہ کام کا کوئی معاوضہ وغیرہ بھی نہ دیا گیا ہو اور اب وہ اپنے اُسی حق کا مطالبہ کر رہا ہو اور مزید ساتھ چلنے سے گریزاں ہو تو اس صورت میں بجائے اُسے زبر دستی ساتھ چلانے کے اس کی طے شدہ تنخواہ یا اجرتِ مثل دیکر الگ بھی کر سکتے ہیں، اور اگر اس کا والد اپنے حصہ میں سے بھی اُسے کچھ دینا چاہے تو شرعاً اس کی بھی اجازت ہے، اور جتنا وہ دے گا اتنا اس کا حصہ بھی متاثر ہو کر کم ہو جائے گا ۔
قال اللہ تعالیٰ: ولاتقل لھما اف (الاسراء:23الآیۃ)
وفی روح المعانی: قال العلامۃ آلوسی۔رحمہ اللہ تعالیٰ۔ والنھی عن ذلک یدل علیٰ المنع فی سائر انواع الایذاء اھ(15/55)۔
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، «أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ لِي مَالًا، وَإِنَّ وَالِدِي يَحْتَاجُ إِلَى مَالِي. قَالَ: " أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ، إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ، كُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.
قال الشیخ ملاعلی قاری۔رحمہ اللہ تعالیٰ۔ وَإِنَّمَا سُمِّيَ الْوَلَدُ أَطْيَبَ كَسْبٍ وَأَحَلَّهُ ; لِأَنَّهُ أَصْلُهُ. قَالَهُ الْقَاضِي أَيْ مِنْ أَطْيَبِ مَا وُجِدَ بِسَبَبِكُمْ وَبِتَوَسُّطِ سَعْيِكُمْ، أَوْ إِكْسَابُ أَوْلَادِكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ فَحَذْفُ الْمُضَافِ (" كُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادُكُمْ ") . فِي الْحَدِيثِ دَلِيلٌ عَلَى وُجُوبِ نَفَقَةِ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ، وَأَنَّهُ لَوْ سَرَقَ شَيْئًا مِنْ مَالِهِ أَوْ أَلَمَّ بِأَمَتِهِ فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ لِشُبْهَةِ الْمِلْكِ. اھ(6/2196)۔
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0