کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے عمرو سے گاڑی خریدی 30 لاکھ روپیہ نقد کے عوض ، جبکہ خود زید کے پاس صرف 15 لاکھ روپیہ ہیں، وہ اس نے عمرو کو دیدیے اور باقی 15 لاکھ روپیہ کے لئے زید نے بکر سے کہہ دیا کہ آپ میری طرف سے عمرو کو 15 لاکھ روپیہ دیدو میں آپ کو 27 لاکھ 50 ہزار روپیہ (45 ہزار روپیہ ماہانہ قسط کے اعتبار سے) ادا کروں گا اور بکر نے اپنے ہاتھ سے عمرو کو وہ 15 لاکھ روپیہ دیدیے۔ (زید کو دیے بغیر) اور زید نے گاڑی بھی بکر کے نام کر دی۔ تو کیا شریعت کی رو سے یہ معاملہ جائز ہے یا نہیں ؟ والسلام
سوال میں مذکور طریقہ کے موافق زید کا بکر کے ساتھ معاملہ قرض کا ہے جس پر نفع لینا شرعاً ناجائز اور سود ہے، اس معاملہ کی وجہ سے یہ دونوں گناہ گار ہو رہے ہیں، ان دونوں پر اس سودی معاملہ کو فوراً ختم کرنا لازم ہے۔
کمافی الدرالمختار: وفي الخلاصة القرض بالشرط حرام والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب به إلى بلد كذا ليوفي دينه.وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ(5/166)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1