کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میرا بیٹا مسمیٰ محمد منیر خان سعودی عرب میں کام کرتا ہے، جبکہ اس کو سعودی عرب جانا ہوتا ہے، حکومت پاکستان کی طرف سے انشورنس پالیسی لینا لازمی ہوتا ہے ، اس کے بغیر سعودی عرب و غیرہ میں جانے کی اجازت نہیں ہوتی ہے، کیا ایسی صورتِ حال میں انشورنس پالیسی لینا جائز ہے ؟ اور اس کی مد میں ملنے والی رقم استعمال کرنا جائز ہے ؟ اور انشورنس پالیسی کے دستاویز سوال کے ساتھ منسلک ہیں۔
مروّجہ انشورنس ’’ بیمہ پالیسیاں ‘‘ جوئے قمار اور سودی معاملات پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں، اس لئے انشورنس خواہ زندگی سے متعلق ہو یا دیگر اموال سے اس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر کسی پالیسی کو قانوناً نالازم قرار دیا جائے اور اسے اختیار کیے بغیر چارہ کار نہ ہو تو ایسی پالیسی کے اپنانے کی شرعاً بھی گنجائش ہو جاتی ہے، لہذا سائل کے بیٹے کے لئے مجبوری انشورنس پالیسی لینے کی بھی گنجائش ہے، مگر انشورنس کی مد میں اصل پریمیم کے علاوہ ملنے والی اضافی رقم کو اپنے استعمال میں لانے کے بجائے کسی مستحقِ زکوٰۃ شخص کو بغیر نیتِ ثواب کے دیدی جائے۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1