گناہ و ناجائز

عورتوں کا احتجاج کیلئے باہر نکلنا

فتوی نمبر :
82313
| تاریخ :
2025-04-26
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

عورتوں کا احتجاج کیلئے باہر نکلنا

کیا عورتوں کا مارچ میں نکلنا جائز ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اسلام میں عورتوں کے حقوق، ان کی عزت وحرمت اور ان کے جائز مطالبات کی حمایت نہ صرف مبا ح، بلکہ باعث اجر وثواب ہے ،تاہم ”عورت مارچ “کے نام پر جو تحریک برپا کی جاتی ہے، اس کا عمومی طرز عمل ،نعرے ،مطالبات اور انداز احتجاج شریعت مطہرہ کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے ،اس میں مخلوط اجتماع، بےپردگی، فحاشی وعریانی پر مبنی نعرے، خاندانی نظام کے خلاف افکار حدود شرع کو چیلنج کرنے کے مطالبات جیسے امور پائے جاتے ہیں ،جو نا صرف ناجائز، بلکہ شدید گمراہی کا سبب ہیں ،لہذا ایسی کسی تحریک میں شرکت یا اس کی تائید کی شرعاً کوئی گنجائش نہیں ،البتہ اگر خواتین شرعی پردے اور مکمل اسلامی حدود کے ساتھ اپنے جائز حقوق مثلاً وراثت ،گھریلو تشدد سے قانونی تحفظ ،اور ایک ہی مجلس میں دی جانے والی طلاق ثلاثہ وغیرہ ،جیسے اہم امور کیلئے الگ اور پاکیزہ ماحول میں کوئی پرامن احتجاج کریں اور اس میں خلاف شرع نعرہ بازی مرد وعورتوں کا اختلاط نہ ہو، پردے اور حیاداری کا اہتمام ہو اور فتنہ وفساد کا اندیشہ نہ ہو تو اس کی گنجائش ہوگی ،تاہم فی زمانہ رائج ”عورت مارچ“ ان شرائط پر پورا نہیں اترتا، لہذا اس میں شرکت جائز نہیں ،اس سے بہر صورت احتراز چاہیے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال تعالی: {وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ} [الأحزاب: 33]"
و فی احکام القرآن للفقیہ المفسر العلامہ محمد شفیع ﷫ : قوله تعالى: {وقرن في بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاهلیة الأولی} ... فدلت الآیة علی أن الأصل في حقهن الحجاب بالبیوت والقرار بها، ولکن یستثنی منه مواضع الضرورة فیکتفی فیها الحجاب بالبراقع والجلابیب ... فعلم أن حکم الآیة قرارهن في البیوت إلا لمواضع الضرورة الدینیة کالحج والعمرة بالنص، أو الدنیویة کعیادة قرابتها وزیارتهم أو احتیاج إلی النفقة وأمثالها بالقیاس، نعم! لا تخرج عند الضرورة أیضًا متبرجةّ بزینة تبرج الجاهلیة الأولی، بل في ثیاب بذلة متسترة بالبرقع أو الجلباب ، غیر متعطرة ولامتزاحمة في جموع الرجال؛ فلا یجوز لهن الخروج من بیوتهن إلا عند الضرورة بقدر الضرورة مع اهتمام التستر والاحتجاب کل الاهتمام ۔ وما سوی ذلک فمحظور ممنوع.،"ج:3،ص:317۔319،ط:ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ۔)
وفی سنن الترمذی : حدثنا محمد بن بشار قال: حدثنا عمرو بن عاصم قال: حدثنا همام، عن قتادة، عن مورق، عن أبي الأحوص، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «المرأة عورة، ‌فإذا ‌خرجت ‌استشرفها الشيطان». هذا حديث حسن صحيح غريب."(ج : 2، أبواب الرضاع، ص: ٤٦٨، الرقم الحدیث :1207،ط: مكتبة مصطفى البابي۔)
کما فی الدر : وحيث أبحنا لها الخروج فبشرط عدم الزينة في الكل، وتغيير الهيئة إلى ما لا يكون داعية إلى نظر الرجال واستمالتهم."(کتاب النکاح ،باب المہر ،ج:3،ص:146،ط:سعید۔)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید قدرت اللہ یار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82313کی تصدیق کریں
0     290
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات