مفتیانِ کرام و مشائخِ عظام مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں
(۱) زید سر کاری ملازم یعنی سکول ٹیچر ہے ۔ موجودہ حکومت کے قواعد کے مطابق زید بینک سے اپنی تنخواہ وصول کرتا ہے ۔ مذکور بینک زید کو قرضہ دیتا ہے بعد میں بینک مثلاً 10 فیصد منافع کیساتھ مذکورہ رقم کی تنخواہ میں سے کٹوتی کرتا ہے ۔ آیا بوقتِ ضرورت بینک سے یہ قرضہ لینا درست ہے یا نہیں ؟ مفصّل جواب مطلوب ہے۔
(۲) خفین کی مدت مقیم کے لئے ایک دن ایک رات ہے، کیا ایک دن ایک رات کو پورا کرنا لازم و واجب ہے ؟ اس مدت سے پہلے نکالنے کی صورت میں ماقبل والی نمازیں کیا کالعدم شمار ہونگی یا ماقبل والی نمازیں درست ہونگی ؟
قرآن حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
(1) مذکور طریقے پر کسی شخص یا بینک سے قرض لینا سود پر مبنی ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے ۔
(2)مقیم کے لئے موزوں پر مسح کرنے کی مدّت ایک دن ایک رات ہے اگر کسی نے اس سے قبل موزے اتار دیے تو وہ شرعاً گناہ گار بھی نہیں البتہ باوضو ہونے کی صورت میں نماز سے قبل پاؤں کا دھونا لازم ہے۔
وفي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: "هم سواء" . رواه مسلم (2/ 134)۔
کمافی الفتاوی الھندیۃ: والمسافر إذا أقام بعد ما استكمل مدة الإقامة ينزع خفيه ويغسل رجليه وإن أقام قبل استكمال مدة الإقامة يتم مدتها. كذا في الخلاصة اھ(1/34)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1