(۱) کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زلزلہ میں ایک بھائی فوت ہو گیا اور دوسرا بھائی اہلِ خانہ سمیت بچ گیا ۔ اس بھائی نے دوسرے بھائی کی بیوی کو عدّت پوری ہونے سے پہلے فنڈ کی لالچ میں اپنے گھر لے آیا ہے اور اپنی بیوی لڑ جھگڑ کر نکال دیا ہے۔ رشتہ داروں کے منع کرنے پر بھی باز نہیں آیا۔ کیا تھا نہ کے ذریعہ سے اس کو منع کیا جائے یا کوئی دوسرے طریقے سے؟
(۲) اس کے فنڈ کو کس طرح تقسیم کیا جائے۔ یا یہ فنڈ بیوہ ہی کا ہوگا؟ اس کا ایک بھائی اور بہن بچی ہے۔ اور سوتیلے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں، براہِ مہربانی ۔ قرآن و سنت کی روشنی میں واضح فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ کا بیان اگر واقعہ درست ہے تو شخصِ مذکور کی دونوں حرکتیں (اولاً اپنی منکوحہ بیوی کو بلا وجہِ شرعی گھر سے بے دخل کرنا اور ثانیاً غیر محرم کو اپنے تسلط میں رکھنا) انتہائی بری اور شنیع حرکتیں ہیں۔ جن کی بناء پر وہ سخت گناہ گار ہوا ہے۔ اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے ان ناجائز امور سے فورا رک جائے۔ اپنا گھر آباد کرنے کی فکر کے ساتھ غیر محرم کو اپنے تسلط سے آزاد کرے۔ اور اب تک جو گناہ سرزد ہوا ہے اُس پر ندامت کے ساتھ بصدقِ دل توبہ و استغفار کرے اور آئندہ کے لئے ایسے امور سے مکمل اجتناب بھی کرے، اس کے باوجود وہ اگر اپنے ان ناجائز امور سے باز نہ آئے تو ایسے بدطینت شخص سے قطعِ تعلق ہونے اور اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کی بھی گنجائش ہے۔ جبکہ مذکور فنڈ کے سلسلہ میں دینے والوں کا جو دستور ہے وہ مکمل طور پر لکھ کر اس سوال کو دوبارہ دار الافتاء بھیج دیں۔ انشاء اللہ حکمِ شرعی سے بھی آگاہ کر دیا جائے گا ۔ واللہ اعلم!