گناہ و ناجائز

بینکوں کی مرمت وغیر کرنے اور اس کی اجرت کا حکم

فتوی نمبر :
82492
| تاریخ :
2025-05-03
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

بینکوں کی مرمت وغیر کرنے اور اس کی اجرت کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میری اپنی ایک کنسٹریکشن کمپنی ہے جو مختلف تعمیراتی اور مرمتی کاموں میں مصروف ہے، حال ہی میں میری ایک ایسی کمپنی سے وابستگی ہوئی ہے جو مختلف بینکوں کے ساتھ رجسٹرڈ ہے اور ان بینکوں سے متعلق متعدد کام انجام دیتی ہے، یہ کمپنی مجھے درج ذیل نوعیت کے کام دیتی ہے،(1)پرانی عمارتوں کو اس طرح تعمیر و ترمیم کرنا کہ وہ نئی بینک شاخوں کے طور پر استعمال کی جا سکیں اس میں مکمل ڈھانچے کی تبدیلی، اندرونی تزئین، شیشے، ٹائلز، سیلنگ اور دیگر تعمیراتی کام شامل ہیں(2) بینک کی موجودہ شاخوں کی مرمت اور بحالی کا کام، جس میں شامل ہیں الیکٹریکل ورک لکڑی کا کام ایئرکنڈیشنر (AC) کی تنصیب و مرمت ٹائل ورک، واش روم کی تیاری رنگ و روغن اور دیگر ضروری تبدیلیاں (3) بعض اوقات بینکوں کو ان کے اندرونی استعمال کے لیے چھوٹا موٹا سامان اور اسٹیشنری بھی فراہم کرنا ہوتا ہے، میرا سوال یہ ہے کہ(1) کیا میرے لیے اس کمپنی کے تحت (جو بینکوں سے رجسٹرڈ ہے) یہ تمام کام انجام دینا شرعاً جائز ہیں؟ (2) اگر میں خود براہِ راست بینکوں سے رجسٹر ڈہو کر یہ کام حاصل کروں اور انجام دوں، تو کیا وہ صورت شرعی اعتبار سے درست ہے؟ (3)ان بینکوں میں جن سے میرا واسطہ ہے، درج ذیل اسلامی بینک شامل ہیں:میزان بینک، یو بی ایل امین اسلامک بینک، اور الفلاح اسلامک بینک،براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس نوعیت کے کام انجام دینا جائز ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جو بینک اپنے معاملات اور کاروباری طریقہ کار میں اصولِ شرعیہ کا لحاظ رکھتے ہوں ، ان میں مذکور امور (کنسٹریکشن وغیرہ کا کام )اختیار کر کے آمدنی حاصل کرنا تو بلا شبہ جائز اور درست ہے ،لیکن جو بینک اپنے کاروبار میں اصولِ شرعیہ کا لحاظ نہ رکھتے ہوں ،تو ان میں مذکور امور اختیار کرنا اگرچہ جائز ہے اوراس سے حاصل ہونے والی آمدنی ناجائز اورحرام بھی نہیں، مگر کام چونکہ سودی ادارےسے متعلق ہو گا جس سے ایک گونہ تعاون کی صورت بنے گی اس لیے اس سے احتراز بہتر ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (و) جاز تعمير كنيسة و (حمل خمر ذمي) بنفسه أو دابته (بأجر). لا عصرها لقيام المعصية بعينه الخ۔
و فی الشامیۃ تحت: (قولہ و جاز تعمیر کنیسۃ) قال فی الخانیۃ: ولو آجر نفسہ لیعمل فی الکنیسۃ و یعمرھا لا بأس بہ لأنہ لا معصیۃ فی عین العمل الخ (کتاب الحظر و الاباحۃ فصل فی البیع ج:6،ص:391،ط: سعید)۔
و فی الھندية: إذا استأجر رجلا ليحمل له خمرا فله الأجر في قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى و قال أبو يوسف و محمد رحمهما الله تعالى لا أجر له الخ(کتاب الاجارۃ، ج:4،ص:449،ط:ماجدیہ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محسن نثار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82492کی تصدیق کریں
0     288
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات