گزارش کی جاتی ہے کہ انسان خطا کا پتلا ہوتا ہے اور کئی گناہ انسان سے سرزد ہو جاتے ہیں ، لیکن انسان اگر صدقِ دل سے استغفار کرے تو اللہ رب العزت اُس کو معاف کر دیتا ہے، عرض یہ ہے کہ میرے سے گزشتہ ،50، 55 سالوں میں چند ایسے گناہ سرزد ہوئے ہیں۔ مثلاً لین دین میں کسی کا حق میرے اوپر رہ گیا ہو بعض دفعہ جان بوجھ کر اور بعض موقع پر لاعلمی کی وجہ سے کسی کا حق ادا نہ کیا ہے اور وہ اشخاص اب میرے یاداشت میں بھی نہیں ہے اور مجھے اس مسئلے نے کافی پریشان کیا ہوا ہے، میرے سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ میں اس کا کفارہ کیسےادا کروں, آیا میں اپنے جائیداد میں سے اُن کے حق میں صدقہ دوں یا کوئی دوسری راہ ہو تو برائے مہربانی آپ صاحبان سے اس مسئلہ کے بارے میں رائے لینا ہے گزارش ہے کہ اس مسئلہ کا حل ارسال کر دیں۔
اگر باوجود کوشش و جستجو بلیغ کے نہ تو ان لوگوں کا علم ہو سکتا ہو، جن سے کسی بھی ناجائز طریقہ سے کچھ لیا ہے اور نہ ہی انکے ورثاء کا علم ہو اور نہ آئندہ ان میں سے کسی کے ساتھ ملنے کی امید ہو تو اس صورت میں اولاً تو اپنے اس گناہ پر ندامت کے ساتھ بصدقِ دل توبہ و استغفار لازم ہے اور ثانیاً یہ کہ آئندہ کے لئے ایسی ناجائز حرکات سے مکمل احتراز بھی کرے، اور ثالثاً یہ کہ شخصِ مذکور نے اس طرح جتنے لوگوں کا جتنا مال لیا ہے اس پورے مال کو اصل مالکوں کی طرف سے صدقہ کر دے ۔
ففي الفتاوى الهندية: والسبيل في المعاصي ردها وذلك هاهنا برد المأخوذ إن تمكن من رده بأن عرف صاحبه وبالتصدق به إن لم يعرفه ليصل إليه نفع ماله إن كان لا يصل إليه عين ماله اھ (5/ 349)۔