گناہ و ناجائز

شوہر کے مالی حالات خراب ہونے کے بعد عورت کا بلاعذر شرعی اس سے طلاق کا مطالبہ کرنا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
82540
| تاریخ :
2025-05-05
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

شوہر کے مالی حالات خراب ہونے کے بعد عورت کا بلاعذر شرعی اس سے طلاق کا مطالبہ کرنا کیسا ہے؟

السلام علیکم !
سال 2017ء میں اور میری بیوی 2017ء میں دبئی رہتے تھے ،میری مالی حالت خراب تھی،میری بیوی نے خود ہی مجھے کہا کہ میں اپنے ابو سے پیسے لے کر دیتی ہوں، آپ انہیں بعد میں تھوڑے تھوڑے کرکے واپس کردینا،کچھ دن سوچنے کے بعد میں نے یہ بات مان لی ،لیکن شرط رکھی اور یہ وعدہ لیا اپنی بیوی سے کہ یہ معاملہ صرف ہم تین بندوں کے درمیان رہے گا(میرے سسر،میں اور میری بیوی ) ،بیوی کے وعدہ کے بعد مجھے میرے سسر نے دبئی فون کیا اور بولا پیسے کہاں اور کس بندہ کو دینے ہے؟ رقم پندرہ لاکھ پاکستانی روپے تھے،میں نے وہ رقم کسی کے تھرو منگواکر اپنی ضرورت پوری کرلی۔سال 2018ء میں مجھے میری بیوی نے بتایا کہ وہ پندرہ لاکھ ابو نے نہیں دئیے،بلکہ بیوی کے بھائی نے دئیے ہیں،مجھے یہ بات بری لگی کہ معاملہ تین بندوں کے درمیان تھا ،اب بھائی کو پتہ ہے،اب آہستہ آہستہ بیوی نے اپنے گھر میں سب کو اور میرے گھر میں سب کو بتادیا کہ میرے شوہر نے قرضہ لیا ہوا ہے،جس کا مجھے کافی دکھ ہوا ،کیونکہ یہ وعدہ خلافی ہوگئی ہے۔سال 2019 ء میں میری بیوی کے بھائی نے اب مجھ سے قرضہ ڈائریکٹ مانگا،شور کر دیا اور میں نے مزید ٹائم مانگا ۔سال 2020ء میں کرونا وائرس کی وجہ سے مارکیٹ خراب ہو گئی، میری جاب چلی گئی ،اور مجھے مجبورا پاکستان واپس آنا پڑا ،اب میرے سسرال والوں نے قرضہ واپسی کے تقاضے بڑھا دئیے اور میں نے ان کو قرضہ واپس کرنےکی یقین دلاتا رہا ۔سال 2023 ء میں میری بیوی مجھ سے عمرہ کی اجازت لے کر اپنی امی اور بھائی کے ساتھ عمرہ کرنے چلی گئی عمرہ ادا کرنے کے بعد میری بیوی شوہر کے گھر آنے کے بجائے اپنے میکے رہنے لگ گئی، اور سسرال والوں نے قرض کی ادائیگی کا تقاضا شروع کر دیا ،میں نے انہیں ہر مہینہ 50 ہزار پاکستان روپے دینے شروع کر دئیے اور کافی قرضہ اتار دیا ،لیکن میری بیوی گھر آنے کو تیار نہیں ہوئی، نہ خلع لیتی ہے کیونکہ خلع کی صورت میں انہیں حق مہر واپس کرنا پڑتا ہے وہ کہتی ہے طلاق دینا ہے تو دے دو ،خلع نہیں لیں گے اور نہ قانونی اجازت دیں گے دوسری شادی کی۔سال 2025ء میں ،میں نے اپنی شادی شدہ زندگی میں اپنی بیوی کو 12 تولہ سونا مختلف موقعوں پر گفٹ دیا ہے جیسا کہ برتھ ڈے، شادی کے دن وغیرہ پر باقی گفٹ وغیرہ الگ ہے۔ بیوی کا قرض کے معاملات کو آپس تک محدود رکھنے کے بارے میں وعدہ خلافی کرنا اوربیوی کا عمرہ کی اجازت کے بعد شوہر کے گھر واپس نہ آنا اور وعدہ خلافی کرنا،شرعاً کیسا ہے؟

قرضہ مجھے میری بیوی نے دیا ہے یا لے کر دیا ہے تو کیا ان کا بھائی مجھ سے ڈائریکٹ قرضہ واپسی کا مطالبہ کر سکتا ہے؟قرضہ پاکستانی روپوں میں لیا اور تھوڑا بہت واپس بھی کیا اور اب بقیہ کی واپسی کا وہ درہمز میں ڈیمانڈ کر رہے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟
بیوی نے وہ سارا سونا میرے اجازت کے بغیر عمرہ پر جانے سے پہلے اپنے ابو کے گھر رکوا دیا تھا اور مجھے کہا تھا کہ مجھے ڈر ہے آپ بھیج دیں گے اس لیے ادھر رکھوایا ہے،کیا میں وہ قرضہ اپنی بیوی کو دیے گئے سونے سے مائنس کروا سکتا ہوں؟اسلامی روشنی سے کیا اس سونے پر میرا کوئی حق ہے؟میرے سسرال والوں کا کہنا کہ سونا بیوی کا ہے نہ وہ واپس ہوگا نہ اس میں قرضہ مائنس ہوگا،وہ قرضہ الگ سے مانگ رہے ہیں، درہم میں مانگ رہے ہیں اور سونا بھی واپس نہیں کر رہے اور لڑکی کو شوہر کے گھر واپس نہیں بھیج رہے اور دوسری شادی کی قانونی اجازت نہیں دے رہے، اور خلع بھی نہیں لے رہے ،اس کا کیا حکم ہے؟


کیا وہ قرضہ میرا اور بیوی کا آپس کا معاملہ ہے یا میرا اور سسرال والوں کا ہے ؟مہربانی کر کے کی اسلامی طریقۂ کار کے مطابق اور اپنے علم کے حساب سے میری رہنمائی فرمائیں اور مجھے جواب دیجئے۔ شکریہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ قرآنِ و سنت میں متعدد مواقع پر وعدہ پورا کرنے کا حکم اور بغیر کسی عارضِ شرعی کےوعدہ شکنی و وعدہ خلافی کی مذمت کی گئی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کا اپنی بیوی سے مذکورہ معاملہ کو مذکور تین بندوں کے درمیان رہنے کا وعدہ لینے کے بعد اس کی بیوی کا اس وعدہ کی خلاف ورزی کرکے بقیہ فیملی ممبرز کو بتانا نامناسب اور ناجائز عمل تھا ،جس پر اسے سائل سے معافی اور اللہ کے حضور بصدقِ دل توبہ و استغفار اور آئندہ کیلئے وعدہ خلافی سے مکمل اجتناب لازم ہے،تاہم جب اس نے اپنے والد یا بھائی سے بات کرکے اپنے شوہر کو قرض دینے پر آمادہ کیا اور سائل کواس کے والد نے مذکور پندرہ لاکھ روپے بطورِ قرض دےدئیے،تو اب اس کے والدیا بھائی کا اس قرض کی ڈائریکٹ واپسی کا مطالبہ کرنا بلاشبہ جائز ودرست ہے،لیکن قرض لیتے وقت اگر اس کی مالیت کے تعین کیلئے پاکستانی کرنسی کو معیار بنایا گیا ہو اس طور پر کہ سائل نے ان سے پندرہ لاکھ روپے پاکستانی مانگے ہوں اور بعد میں انہوں نے پندرہ لاکھ پاکستانی روپے درہم میں تبدیل کرکے سائل کو ارسال کئے ہوں،تو ایسی صورت میں چونکہ قرض کا معاملہ درہم کے بجائے پاکستانی کرنسی میں ہوا ہے، اس لئےاب سائل کے لیے پاکستانی روپے میں ہی قرض واپس کرناضروری ہے،ان کے سسرال والوں کا سائل کی رضامندی کے بغیر درہم کی صورت میں زائد رقم کی واپسی کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں،جس سے احتراز لازم ہے۔
جبکہ سائل نے شادی کے بعد مختلف مواقع پر جوسونا باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ اپنی بیوی کو ہبہ (گفٹ ) کردیا ہو تو اس کی بیوی اس سونے کی مالک بن چکی ہے،لہذا سائل کے لیے اس سے وہ سونا واپس لینا یا اسے مذکور قرض میں مائنس کرنا شرعاً جائز نہیں،البتہ سائل کی بیوی کا بلاکسی عذرِ شرعی کےاپنے شوہرسے طلاق کا مطالبہ کرنا اور اس کے پاس نہ آنا یا سسرال والوں کا اسے اپنے گھر میں بٹھاکر ان کے گھر نہ بھیجنا اور بلاوجہ دوسری شادی کی قانونی اجازت نہ دینا شرعاً ناجائز طرزِ عمل ہے،جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہورہےہیں،اس لئے ان کے سسرال والوں کو چاہیئے کہ میاں بیوی کے درمیان مصالحت میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے اس کی بیوی کو اس کے گھر جلد از جلد بھیجنےکا اہتمام کریں ، بصورتِ دیگر وہ قانونی چارہ جوئی کا بھی حق رکھتاہے، اور سائل کو بھی چاہیئے کہ وہ اس سے علیحدگی اختیار کرنےیا خلع لینے کا مطالبہ کرنے میں جلد بازی اختیار کرنے کے بجائےخاندان کے معزز اور باثر افراد کے ذریعے اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کرے، تاہم اگر کوشش کے باوجود بھی وہ اپنے شوہر کے گھر لوٹنے کیلئے آمادہ نہ ہو توایسی صورت میں بیوی کی طرف سے زیادتی کی وجہ سے اسے قانونی طور پر خلع لینے پر مجبور کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالی:((واوفوا بالعھد ان العھد کان مسئولا)) (الإسراء:34)۔
وفی مرقاۃ المفاتیح: (وعن عبد الله بن عمرو) بالواو رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (أربع) أي خصال أربع (إلی قولہ) وإذا عاهد غدر) أي ينقض العهد ابتداء، وقال ابن حجر: إذا حالف ترك الوفد إلخ(کتاب الإیمان، باب الکبائر وعلامات النفاق، ج: 1، ص: 128، ط: دار الفکر بیروت)۔
وفی الدر المختار: (استقرض من الفلوس الرائجۃ والعدالی فکسدت) (إلی قولہ) لما مر أنہ مضمون بمثلہ فلاعبرۃ بغلائہ ورخصہ إلخ۔
وفی الرد تحت : (قوله فلا عبرة بغلائه و رخصه) فيه أن الكلام في الكساد،(إلی قولہ) وان استقرض دانق فلس او نصف درهم فلوس ثم رخصت او غلت لم يكن عليه الا مثل عدد الذي اخذه إلخ(کتاب البیوع، باب القرض، ج: 5، ص: 162، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: فی الفتاوی الغیاثیۃ الرجوع فی الھبۃ مکروہ فی الاحوال کلھا و یصح کذا فی التاتارخانیۃ (إلی قولہ) لیس لہ حق الرجوع بعد التسلیم فی ذی الرحم المحرم و فیما لیس ذلک لہ حق الرجوع إلا أن بعد التسلیم لاینفرد الواھب بالرجوع بل یحتاج فیہ إلی القضاء أو الرضاء إلخ(کتاب الھبۃ، ج: 4، ص: 385، ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: وإن كان ‌النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر ولكن مع هذا يجوز أخذ الزيادة في القضاء كذا في غاية البيان إلخ(کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع إلخ، ج:1، ص: 488، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق شیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82540کی تصدیق کریں
0     10
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات