مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ :
صورتِ اولی : زید نے ایک بکری 2000 میں خرید کر خالد کے حوالہ کر دی اور کہا کہ اس کو اپنے اخراجات سے پالو، جب بیچیں گے تو اصل قیمت نکال کر منافع کو آدھا آدھا کر لیں گے۔ اب دو سال کے بعد اس بکری کی قیمت 4000 ہوگئی اب اس بکری کو فروخت کر کے دو ہزار اصل قیمت زید نے لے لی، اور باقی دو ہزار آپس میں تقسیم کردی یعنی نصف نصف ، مذکورہ صورت جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو عدمِ جواز کی علت کیا ہے؟
صورتِ ثانیہ: ایک آدمی نے اپنی بکری کسی کو دی اور کہا کہ اس بکری کو پالو اپنے اخراجات سے جب بیچیں گے تو اصل قیمت کے ساتھ منافع کو بھی نصف نصف کر لیں گے اب تین سال کے بعد بکری کو فروخت کیا جس کی قیمتِ فروخت 4000 روپے ہیں، اب مالک اور پالنے والے نے اس رقم کو نصف نصف تقسیم کر دیا۔ اصل قیمت نکالنے کے بغیر ۔ کیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں ؟
اجرت مجہول ہونے کی بناء پر مذکور دونوں صورتیں اجارۂ فاسدہ کی ہیں جو شرعاً جائز نہیں، اس لئے اس طریقہ کے موافق معاملہ کرنے سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر چرواہے کو اس بکری وغیرہ میں مثلاً نصف کا شریک بنا لیا جائے اور پھر بوقتِ فروخت طے شدہ حصوں کے مطابق ہونے والے نفع کو باہم تقسیم کر لیا جائے تو یہ بلا شبہ جائز ہے اور ایسا ہی چاہئیے ۔
کمافي الفتاوى الھندية: دفع بقرة إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة (إلی قوله) والحيلة في جوازه أن يبيع نصف البقرة منه بثمن ويبرئه عنه ثم يأمر باتخاذ اللبن و السمن فيكون بينهما اھ (4/ 445)
وفي المبسوط للسرخسي؛ ولو دفع إليه غنمه يرعاها على أن أجره ألبانها وأصوافها فهو فاسد لأنه مجهول وإعلام الأجر لا بد منه لصحة الإجارة اھ (15/ 297)۔
وفي الفتاوى الهندية: وعلى هذا إذا دفع البقرة إلى إنسان بالعلف ليكون الحادث بينهما نصفين فما حدث فهو لصاحب البقرة ولذلك الرجل مثل العلف الذي علفها وأجر مثله فيما قام عليها وعلى هذا إذا دفع دجاجة إلى رجل بالعلف ليكون البيض بينهما نصفين والحيلة في ذلك أن يبيع نصف البقرة من ذلك الرجل ونصف الدجاجة ونصف بذر الفليق بثمن معلوم حتى تصير البقرة وأجناسها مشتركة بينهما فيكون الحادث منها على الشركة كذا في الظهيرية اھ (2/ 335)۔
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0