ہمارے ادارہ کے قواعد میں سے یہ بھی ہے کہ اگر کوئی ملازم ملازمت چھوڑنا چاہتا ہو تو اسے ایک ماہ قبل انتظامیہ کو مطلع کرنا ہو گا،بصورت دیگر اس کی ایک ماہ کی تنخواہ کاٹ لی جائے گی، اور یہ بات ملازمت پر رکھتے ہوئے تحریری اور زبانی طور پر بتائی بھی جاتی ہےاور ملازم اس تحریر پر دستخط بھی کرتا ہے،کیا اس طرح کٹوتی کرنا جائز ہے؟اگر نہیں تو ملازمین کے بغیر اطلاع کام چھوڑنے سے ادارہ کو ہونے والے نقصان سے بچنے کے لئے کون سی جائز صورت اختیار کی جا سکتی ہے؟
نوٹ: بغیر اطلاع کام چھوڑنے کی وجہ سے نئے ملازم کا انتظام کرنے اور اس کو کام سکھانے میں وقت لگتا ہے اور ادارہ کا نقصان ہوتا ہے جو عموماً ایک ماہ کی تنخواہ سے زیادہ ہوتا ہے۔
واضح ہوکہ کسی ادارے یا کمپنی کاملازمین کے ساتھ جو عقد ہوتا ہے، اسے شریعت کی اصطلاح میں ”اجارہ“کہا جاتا ہے، جوکہ ایک عقدِ لازم ہے، چنانچہ اجارہ کامعاملہ طےپانےکےبعد کسی بھی فریق کے لیےبغیر پیشگی اطلاع ملازمت چھوڑ کر جانا معاہدہ کی خلاف ورزی اور وعدہ خلافی کی وجہ سے جائز نہیں جس سے احترازلازم ہے،اس لیے معاہدہ کی پابندی اور وعدہ کی تکمیل کی خاطرکسی کمپنی یا ادارے کاملازم کو ملازمت چھوڑنے کی صورت میں ایک ماہ پہلے اطلاع دینے کا پابند بنانا درست ہے، اور ملازم پر بھی حسبِ معاہدہ اس ضابطہ پر عمل کرنا شرعاً لازم ہوگا، تاہم اگر ملازم خلافِ ضابطہ اطلاع دئیے بغیر کام چھوڑ کر چلا جائے، تو ادارے کا ملازم کی ایک ماہ کی تنخواہ بطورِ”تعزیر بالمال“ (مالی جرمانہ) روک لینا جمہور فقہاء کرام کے نزدیک جائز نہیں ہے، تاہم اگر ملازم کی جانب سے معاہدہ کی خلاف ورزی کی وجہ سے ادارےکا کوئی حقیقی نقصان ہوا ہو، تو صرف اس نقصان کے بقدر ملازم سے تلافی کروائی جاسکتی ہے،اس سے زائد ملازم کی تنخواہ سے کٹوتی کرنا تعزیر بالمال ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، جس سے اجتناب لازم ہے ۔
البتہ تعزیر بالمال سے بچتے ہوئے ملازم کو معاہدہ کا پابند بنانے کیلئے بطورِ متبادل یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہےکہ شروع سے ہی معاہدہ میں یہ شق بڑھا دی جائے کہ کمپنی ملازم کی ایک یا دو مہینے کی تنخواہ ایڈوانس میں بطورِ ڈپوزٹ اپنے پاس روکے گی کہ اگر وہ بغیر اطلاع دیے چھوڑ کر جائےگا ، تو اس کی وہ تنخواہ فقراء پرصدقہ کردی جائیگی۔
کمافی احکام القرآن للجصاصؒ: قال أبو بكرؒ يحتج به في أن كل من ألزم نفسه عبادة أو قربة وأوجب على نفسه عقدا لزمه الوفاء به; إذ ترك الوفاء به يوجب أن يكون قائلا ما لا يفعل، وقد ذم الله فاعل ذلك، وهذا فيما لم يكن معصية، فأما المعصية فإن إيجابها في القول لا يلزمه الوفاء بها. وقال النبي صلى الله عليه وسلم: "لا نذر في معصية وكفارته كفارة يمين"، وإنما يلزم ذلك فيما عقده على نفسه مما يتقرب به إلى الله عز وجل مثل النذور وفي حقوق الآدميين العقود التي يتعاقدونها، وكذلك الوعد بفعل يفعله في المستقبل، الخ (ج 3، ص 591، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت)-
وفی إعلاء السنن: التعزیر بالمال جائز عند أبی یوسفؒ، وعندهما وعند الأئمة الثلاثۃؒ لایجوز، وترکه الجمهور للقرآن والسنة؛ وأما القرآن فقوله تعالی: "فاعتدوا علیه بمثل ما اعتدی علیکم، وإن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم بہ" وأما السنة فإنه علیه السلام قضی بالضمان بالمثل، ولأنه خبر یدفعه الأصول، فقد أجمع العلماء علی أن من إستهلك شیئاً لم یغرم إلا مثله أو قیمته، الخ (کتاب السرقۃ، باب التعزیر بالمال، ج 11، ص 733، ط: إدارۃ القرآن، کراتشی، باکستان)-
وفی فقه البیوع: لا یجوز ان یحمّل المتخلّف عن الوعد تعویضاً إلا بمقدار الخسارة الفعلية التی أصیب به الطرف الآخر مثل ان یضطر البائع الی بیع المبیع بأقل من سعر تکلفته، والله سبحانه وتعالی اعلم، (المبحث الاول، الباب الثانی، التکییف الفقھیّ لإتلافیۃ البیع، ج 1، ص 113، مکتبۃ معارف القرآن)-
وفی البدائع: وأما صفة الإجارة فالإجارة عقد لازم إذا وقعت صحيحة عرية عن خيار الشرط والعيب والرؤية عند عامة العلماء، فلا تفسخ من غير عذر، الخ (کتاب الإجارۃ، فصل في صفة الإجارة، ج 4، ص 201، ط: ایچ ایم سعید)-