گناہ و ناجائز

کسی لڑکی سے نکاح کا وعدہ کرکے اس سے مکر جانے کا حکم

فتوی نمبر :
82663
| تاریخ :
2025-05-11
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کسی لڑکی سے نکاح کا وعدہ کرکے اس سے مکر جانے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میں ایک شرعی مسئلہ کے متعلق راہنمائی کی طلبگار ہوں، ایک شخص نے مجھ سے گزشتہ چار سال تک مسلسل نکاح کا وعدہ کیا،میں نے بارہا اس سے نکاح کا تقاضا کیا، مگر اس نے ہر مرتبہ کہا کہ وہ وقت آنے پر نکاح کرے گا،اس عرصے میں میں نے اس پر اعتماد کیا، اس کے ساتھ رابطے میں رہی، اور اس کے اہل خانہ سے بھی ملاقات ہوئی،ان کے علم میں تھا کہ وہ مجھ سے شادی کا وعدہ کر رہا ہے،
اب اچانک اس کی والدہ نے مجھے بتایا کہ وہ لڑکا مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ وہ اب مجھے پسند نہیں کرتا، میری باتوں سے اس کے اخلاص کا اندازہ ہوتا تھا، اور اہل خانہ کی شمولیت سے میں نے اس کے وعدے کو سچا سمجھا، لیکن اب یہ صورت حال ہے کہ وہ اپنے وعدے سے مکر گیا ہے،
میرا سوال یہ ہے:
1. کیا ایک مسلمان مرد کا اس طرح نکاح کا وعدہ کرنا اور پھر وعدہ خلافی کرنا شریعت کی رو سے درست ہے؟
2. کیا اس وعدہ خلافی پر کوئی شرعی گرفت یا وعید ہے؟
3. ایسی ماں جو اپنے بیٹے کی اس طرح کی غیر شرعی روش کی حمایت کرے، اس کے بارے میں شریعت کی کیا رہنمائی ہے؟
4. اس صورت حال میں لڑکے کی ماں کو شرعاً کیا کرنا چاہیئے تھا؟
براہ کرم کتاب و سنت اور فقہ کی روشنی میں اس مسئلہ پر راہنمائی فرمائیں، تاکہ مجھے سکون قلب حاصل ہو اور میں آئندہ کے لیے مناسب قدم اٹھا سکوں۔جزاکم اللہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شریعتِ مطہرہ میں کسی نامحرم لڑکے سے تعلق رکھنا، اس سے تنہائی میں گفتگو کرنا، وعدے وعہد باندھنا یا جذباتی وابستگی قائم کرنا سخت ناجائز اور گناہِ کبیرہ ہے۔ ایسے تعلقات سے ایمان و عفت مجروح ہوتی ہے اور فتنے کا دروازہ کھلتا ہے، لہٰذا سائلہ پر لازم ہے کہ فوراً اس تعلق کو ختم کرکےبصدق دل اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کرے، آئندہ اس قسم کے تعلقات قائم کرنے سے مکمل اجتناب برتنے کا عزم کرے اور اپنے معاملے کو سرپرستوں کے علم و مشورے میں لائے ،تاکہ وہ حالات کے مطابق بہتر فیصلہ کرسکیں۔اور مذکورلڑکےکو بھی چاہیئے کہ جب اس نے لڑکی سے نکاح کا وعدہ کیا ہے تو ایک مسلمان کے لیے اپنے قول، وعدے اور ذمہ داری کی پابندی کرنا شرعاً لازم اور دیانت کا تقاضا ہے؛ بلا عذرِ شرعی وعدہ توڑنا اخلاقاً و شرعاً مذموم ہے۔ لہٰذا اگر وہ واقعی نکاح کا ارادہ رکھتا ہو اور اس میں کسی قسم کاکوئی شرعی و معاشرتی مانع موجودنہ ہوتواپنا وعدہ پورا کرتےہوئے اپنے گھرکےسربراہان و خاندان کے بڑوں کے ذریعے لڑکی والوں کے گھرباقاعدہ پیامِ نکاح بھجواکرعقدنکاح کر لے۔ اور اگروہ نکاح کی استطاعت نہ رکھتاہو یا حالات سازگار نہ ہوں تو صاف اور واضح طور پر اس کی وضاحت کرے، لڑکی کو جھوٹی امیدودلاسہ دلاکردھوکہ میں مبتلاء رکھناانتہائی نامناسب اور ناجائزحرکت ہے ،جس سے احتراز چاہئیے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالی فی التنزیل العزیز: وَإِذَا طَلَّقۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعۡضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحۡنَ أَزۡوَٰجَهُنَّ الخ (البقرۃ :231)
وفی الصحیح لمسلم: حدثنا سعيد بن منصور، ( الی قولہ )عن ابن عباس ، أن النَبي صلى الله عليه وسلم قال: ‌الأيم ‌أحق ‌بنفسها من وليها،( کتاب النکاح، باب استیذان الثیب فی النکاح الخ، ج 2، ح 1421، ص: 724،ط: البشری)
وفی المبسوط: فأما في غير المسجد من البيوت ونحوها فإنه يكره ذلك إلا أن يكون معهن ذو رحم محرم منهن لقوله صلى الله عليه وسلم «‌ألا ‌لا ‌يخلون ‌رجل بامرأة ليس منها بسبيل فإن ثالثهما الشيطان» وبتفرد النساء يزداد معنى خوف الفتنة الخ(کتاب الصلاۃ،احکام الوتر،الفصل الثانی القنوت فی الوتر،ج1،ص166،ط: مطبع السعادۃ مصر)
وفی الدر: (فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا
وفی الردتحت( قوله فنفذ إلخ) أراد بالنفاذ الصحة وترتب الأحكام من طلاق وتوارث وغيرهما لا اللزوم، ( الی قولہ) وأما حديث أيما امرأة نكحت نفسها بغير إذن وليها فنكاحها باطل فنكاحها باطل فنكاحها باطل وحسنه الترمذي وحديث لا نكاح إلا بولي رواه أبو داود وغيره، فمعارض بقوله صلى الله عليه وسلم الأيم أحق بنفسها من وليها رواه مسلم وأبو داود والترمذي والنسائي ومالك في الموطأ، ( الی قولہ )ويترجح هذا بقوة السند والاتفاق على صحته، بخلاف الحديثين الأولين فإنهما ضعيفان أو حسنان، الخ(کتاب النکاح، باب الولی،ج3، ص 56۔55، ط:ایچ ایم سعید)
وفیہ ایضا: وهي هنا نوعان: ولاية ندب على المكلفة ولو بكرا وولاية إجبار على الصغيرة ولو ثيبا ومعتوهة ومرقوقة الخ
وفی الرد تحت(قولہ: ولاية ندب) أي يستحب للمرأة تفويض أمرها إلى وليها كي لا تنسب إلى الوقاحة( کتاب النکاح،باب الولی،ج3،ص55،ط: ایچ ایم سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سعید اللہ لطیف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82663کی تصدیق کریں
0     10
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات