کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کے پاس سود کی کچھ رقم ہے، وہ اس کے ذریعے ایک مسجد میں کنواں کھودنا چاہتا ہے، تو آیا اس کے لئے ایسا کرنا جائز ہے؟ اور نمازیوں کے لئے ایسے کنویں سے وضو کرنا جائز ہے؟
مذکور رقم پر کسی مستحق کو باضابطہ مالکانہ قبضہ دے کر بلانیتِ ثواب صدقہ کرنا واجب ہے، لہذا مذکور شخص پر لازم ہے کہ کسی مستحق کو اس رقم پر مالک بنا دے،پھر وہ مستحق اگر اپنی مرضی و خوشی سے کنواں کھدوا دے ،یا کسی کے رفاہی کام میں خرچ کر دے تو اس کا اُسے اختیار ہے اس پر لازم نہیں۔ اور اگر اس شخص نے کسی مستحق کو مالک بنائے بغیر اُس رقم کو خرچ کر کے کنواں وغیرہ بنوا دیا ہو تو ایسے کنویں سے بھی وضو کر کے نماز اور دیگر عبادات بجالانا مع الکراہۃ جائز اور درست ہے۔
ففی معارف السنن: من ملك بملك خبیث ولم یمکنه الرد إلی المالک فسبیله التصدق علی الفقراء اھ (۱/ ۳۴)۔