گناہ و ناجائز

سود کی رقم سے مسجد کا کنواں کھدوانے کاحکم

فتوی نمبر :
82668
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

سود کی رقم سے مسجد کا کنواں کھدوانے کاحکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کے پاس سود کی کچھ رقم ہے، وہ اس کے ذریعے ایک مسجد میں کنواں کھودنا چاہتا ہے، تو آیا اس کے لئے ایسا کرنا جائز ہے؟ اور نمازیوں کے لئے ایسے کنویں سے وضو کرنا جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور رقم پر کسی مستحق کو باضابطہ مالکانہ قبضہ دے کر بلانیتِ ثواب صدقہ کرنا واجب ہے، لہذا مذکور شخص پر لازم ہے کہ کسی مستحق کو اس رقم پر مالک بنا دے،پھر وہ مستحق اگر اپنی مرضی و خوشی سے کنواں کھدوا دے ،یا کسی کے رفاہی کام میں خرچ کر دے تو اس کا اُسے اختیار ہے اس پر لازم نہیں۔ اور اگر اس شخص نے کسی مستحق کو مالک بنائے بغیر اُس رقم کو خرچ کر کے کنواں وغیرہ بنوا دیا ہو تو ایسے کنویں سے بھی وضو کر کے نماز اور دیگر عبادات بجالانا مع الکراہۃ جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی معارف السنن: من ملك بملك خبیث ولم یمکنه الرد إلی المالک فسبیله التصدق علی الفقراء اھ (۱/ ۳۴)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ارشد على عالم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82668کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات