ایک شخص کا عورتوں کے کپڑوں کا کاروبار ہے، جس میں وہ کپڑے سلوانے کے بعد فروخت کرتا ہے۔ عام طور پر یہ کاروبار کرنے والے لوگ تین طریقے سے کاروبار کرتے ہیں: ماڈلز وغیرہ کو بلایا جاتا ہے اور ان کو وہ کپڑے پہنا کر تصاویر لی جاتی ہیں، پھر ان تصاویر کے ذریعے ان کپڑوں کی تشہیر کی جاتی ہے۔ ماڈل نہ ہونے کی بنا پر، جس میں عورتوں والے اعضاء ہوتے ہیں، ان کو کپڑے پہنا کر تصاویر کی تشہیر کی جاتی ہے۔ عورتوں والی ڈمی میں سے سر اور چہرہ ہٹا کر تصاویر لی جاتی ہیں، بعد تشہیر کی جاتی ہے۔مندرجہ بالاصورتوں کا کیا حکم ہوگا؟ اور اگر کوئی شخص کسی حرام صورت میں ملوث ہے تو آج تک کے کمائے گئے نفع جس کا اندازہ بھی لگانا ممکن نہیں، کا کیا حکم ہوگا؟ اب جبکہ یہ رواج ہو چکا ہے مارکیٹ میں، آپ ان طریق کو اختیار کیے بغیر اپنا پروڈکٹ نہیں بیچ سکتے تو کوئی متبادل صورت بھی بتا دیں تو مشکور ہوں گا
سوال میں ذکر کردہ پہلی دونوں صورتیں خواتین کے گارمنٹس کے کاروبار کے لیے اختیار کرنا شرعاًنا جائز اور حرام ہے جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے ۔ جبکہ درج ذیل شرائط کی رعایت کے ساتھ اس کاروبار کو کرنے کی اجازت ہے :
( 1) ڈمی ( مجسمہ) کی ہیئت ایسی ہو کہ اس کا سر کٹا ہوا ہو یا چہرہ اس قدر مسخ کردیا گیا ہو کہ چہرہ کے نقوش واضح نہ ہو ۔
( 2 ) عورت کی ڈمی ( مجسمے ) میں ا س بات کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے کہ اس کے اعضائے مستورہ کے خد و خال نمایان نہ ہوئے ہوں ۔ لہذا اگر گارمنٹس کی تشہیر میں اس قسم کی ڈمی کا استعمال کیا جائے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے ۔ ورنہ نہیں ، البتہ اب تک حرام طریقہ کار کو اختیار کرتے ہوئے جو منافع حاصل کیا گیا ہے اس کو حرام نہیں کہا جاسکتا ، تاہم اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ و استغفار اور آئندہ کےلیے اس قسم کے حرام اور ناجائز طریقوں سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی سنن أبی داؤد : عن علي بن أبي طالب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا تدخل الملائكة بيتا فيه صورة ولا كلب ولا جنب.» ( کتاب الطھارۃ، باب فی الجنب یؤخر الغسل، ج:1،ص: 90، ناشر: المطبعۃ الأنصاریۃ دھلی )-
و فی عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری : وفي التوضيح قال أصحابنا وغيرهم تصوير صورة الحيوان حرام أشد التحريم وهو من الكبائر وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره فحرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله وسواء كان في ثوب أو بساط أو دينار أو درهم أو فلس أو إناء أو حائط وأما ما ليس فيه صورة حيوان كالشجر ونحوه فليس بحرام وسواء كان في هذا كله ما له ظل وما لا ظل له وبمعناه قال جماعة العلماء مالك والثوري وأبو حنيفة وغيرهم وقال القاضي إلا ما ورد في لعب البنات وكان مالك يكره شراء ذلك اھ ( باب عذاب المصورین یوم القیامۃ، ج:22 ص: 80 ناشر دار الفکر )-
و فی تکملۃ فتح الملھم : أما التلفزون و الفدیو فلا شک فی حرمۃ استعمالھما إلی ما یشتملان علیہ من المنکرات ( إلی قولہ ) أما الصورۃ التی لیس لھا ثبات و استقرار و لیست منقوشۃ علی شیئ بصفۃ دائمۃ فإنھا بالظل أشبہ بالصورۃ و یبدو أن صورۃ التلفزون و الفدیو لا تستقر علی شیئ فی مرحلۃ من المراحل إلخ ( الصورۃ عند الحاجۃ،ج: 4، ص:164، ناشر: مکتبۃ دار العلوم کراتشی )-
و فی الدر المختار : وقدمنا ثمة معزيا للنهر أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريما وإلا فتنزيها اھ
و فی رد المحتار تحت ( قولہ (قوله معزيا للنهر) قال فيه من باب البغاة وعلم من هذا أنه لا يكره بيع ما لم تقم المعصية به كبيع الجارية المغنية والكبش النطوح والحمامة الطيارة والعصير والخشب ممن يتخذ منه المعازف اھ ( کتاب الحظر والإباحۃ، فصل فی البیع، ج:6، ص: 391، ناشر: دارالفکر )-