گناہ و ناجائز

بھائیوں کا بڑے بھائی کی ذاتی کمائی میں حصہ مانگنا

فتوی نمبر :
82860
| تاریخ :
2025-05-20
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

بھائیوں کا بڑے بھائی کی ذاتی کمائی میں حصہ مانگنا

محترم مفتی صاحب!میں اپنے بھائیوں کے ساتھ میری دولت اور ان کے شریعت کے تحت دعوؤں کے حوالے سے مالی تنازعہ کے بارے میں آپ کی رہنمائی مانگتا ہوں۔ ذیل میں متعلقہ تفصیلات کا خلاصہ ہے:

خاندانی پس منظر اور ذمہ داریاں:

میں چھ بھائیوں اور پانچ بہنوں میں سب سے بڑا ہوں۔ کئی سالوں سے، میں نے اپنے خاندان کی مالی مدد کی ہے، ان کی ضروریات (خوراک، طبی اخراجات وغیرہ) پوری کی ہیں، کیونکہ ہمارے والد، جو کہ ایک کم درجے کے سرکاری ملازم تھے، ریٹائر ہوگئے تھے۔ میں نے والد کی بیماری اور والدہ کے علاج کے دوران گھر کی مکمل مالی ذمہ داری اٹھائی۔

کاروباری منصوبے اور شراکتیں:
میں نے ایک پرانے کار پارٹس کی دکان میں کام کیا اور بعد میں رزاق اور وارث کے ساتھ شراکت کی۔ تمام ابتدائی سرمایہ رزاق نے فراہم کیا، جبکہ میں نے کاروبار کے آپریشنز سنبھالے۔ منافع تینوں شراکت داروں میں برابر تقسیم کیا جاتا تھا۔میں نے اپنے دوسرے بھائی، نذیر ، کو دکان میں کام کے لیے لایا، جہاں اس نے بنیادی کام (صفائی، کھانا پکانا) کیے اور آہستہ آہستہ کاروبار سیکھا۔ بعد میں، میں رزاق کی مرکزی دکان میں شامل ہوا، اور نذیر نے وہاں بھی اسی طرح کے کام جاری رکھے۔والد کی ریٹائرمنٹ کے بعد، مجھے ان کے ریٹائرمنٹ فنڈز کے طور پر 4.5 لاکھ روپے ملے، جنہیں میں نے کاروبار میں لگایا۔ میں نے 1.5 لاکھ روپے والد کی دل کی سرجری پر اور اضافی رقم والدہ کے علاج پر خرچ کی۔
رزاق سے علیحدگی کے بعد، میں نے اپنا کاروبار شروع کیا، جہاں نذیر اور میرے تیسرے بھائی، شاہ، نے میرے ماتحت بنیادی کام کیے، جبکہ میں نے کاروبار کی بنیادی سرگرمیاں سنبھالیں۔

ہجرت اور مالی انتظامات:
2013 میں، میں نے بہتر مواقع کے لیے ہجرت کا فیصلہ کیا۔ جانے سے پہلے، میں نے نذیر کو خاندان کی کفالت سونپی اور اسے درج ذیل چیزیں دیں:
12 لاکھ روپے کی دکان،5-6 لاکھ روپے کے کار پارٹس،1.5-2 لاکھ روپے نقد،صارفین سے واجبات 4-5 لاکھ روپے،اور7-8 لاکھ روپے کا گھر اور زمین،اپنے سفر کے لیے، میں نے دوستوں سے تقریباً 9 لاکھ روپے قرض لیے، تاکہ خاندانی فنڈز کا کم سے کم استعمال ہو۔ سفر کے دوران،

بھائیوں کے ساتھ تنازعہ:
پناہ گزین کیمپ میں رہتے ہوئے، میں نے نذیر کو کاروباری معاملات پر مشورہ دیا، لیکن رقم کے حوالے سے ہمارے درمیان اختلافات ہوئے۔ نذیر نے فنڈز مانگے، جو میں اپنی حالت کی وجہ سے فوری طور پر فراہم نہیں کر سکا۔ کئی مہینوں تک ہمارا رابطہ منقطع رہا۔بعد میں مجھے پتہ چلا کہ نذیر نے میری اجازت کے بغیر دکان، زمین، اور گھر فروخت کر دیا اور نیا کاروبار شروع کیا۔ میں نے یہ بھی سنا کہ ہمارے والد، جو میرے کیمپ میں رہنے کے دوران انتقال کر گئے، میرے بھائیوں کے رویے سے ناراض تھے۔

امریکہ میں آباد ہونے کے بعد، میں نے اپنے خاندان کی مدد کی:
ان کے لیے 70-80 لاکھ روپے کی لاگت سے گھر بنوایا، جس میں میرے بھائیوں نے مزدوری کی لیکن(مگر کوئی مالی شراکت نہیں کی۔نذیر اور شاہ کی شادیوں کے اخراجات پورے کیے، جو کہ مجموعی طور پر 35 لاکھ روپے تھے۔ان کے کاروبار کے لیے 20 لاکھ روپے دیے۔میرے بھائیوں نے میرے اخراجات یا شادی میں کوئی مالی شراکت نہیں کی، جو وہ تسلیم کرتے ہیں۔

بھائیوں کے موجودہ دعوے:
میرے بھائی اب میری امریکہ میں ٹرک ڈرائیور کے طور پر کمائی ہوئی دولت، میرے بنائے ہوئے گھر، اور ان کے کاروبار کے لیے دیے گئے 20 لاکھ روپے میں حصہ مانگ رہے ہیں۔ ان کے دلائل یہ ہیں:
میری ہجرت کے فیصلے سے ان کی زندگیاں متاثر ہوئیں۔
انہوں نے میرے سفر کے لیے فنڈز (2-3 لاکھ روپے) کے انتظام میں مدد کی۔
انہوں نے میری غیر موجودگی میں میرا انتظار کیا۔
میں نے والد کے ریٹائرمنٹ فنڈز (4.5 لاکھ روپے) کاروبار کے لیے استعمال کیے۔

فتویٰ کے لیے سوالات:
شریعت کے تحت، کیا میرے بھائیوں کا میری ذاتی دولت، میرے بنائے ہوئے گھر، اور ان کے کاروبار کے لیے دیے گئے 20 لاکھ روپے پر دعویٰ جائز ہے؟
کیا میرے سفر کے دوران ان کی طرف سے دیے گئے 2-3 لاکھ روپے کی شراکت انہیں میری کمائی یا جائیداد میں حصہ دار بناتی ہے؟
کیا والد کے ریٹائرمنٹ فنڈز کا استعمال، جو کاروبار میں لگائے گئے اور جزوی طور پر ان کے علاج پر خرچ ہوئے، میرے بھائیوں کے لیے کوئی مالی ذمہ داری پیدا کرتا ہے؟
چونکہ میں نے بڑے بھائی کے طور پر سالوں تک خاندان کی کفالت کی اور خاطر خواہ مالی مدد فراہم کی، کیا میرے بھائیوں کو میری دولت کی تقسیم کا مطالبہ کرنے کا حق ہے؟
میں آپ سے شریعت کے تحت اپنی ذمہ داریوں اور اپنے بھائیوں کے حقوق کو واضح کرنے کے لیے فیصلہ مانگتا ہوں۔ اللہ آپ کو آپ کی رہنمائی کے لیے جزائے خیر دے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل کے بیان کردہ تفصیل کے مطابق ان کا اپنے بھائیوں کے ساتھ جائیداد میں تقسیم اور ملکیت پر تنازعہ ہے اور ایسے حالات میں جب فریقین کے درمیان متروکہ اموال پر اختلاف ہو تو اس کے بارے میں حتمی اور یقینی حکم بیان کرنے سے قبل فریقین کا موقف جاننا اور پوری صورتِ حال سے واقف ہونا ضروری ہے، جبکہ سوال میں فقط سائل کا مؤقف مذکور ہے،دیگر بھائیوں کا مؤقف درج نہیں اس لئے ان کے معاملہ کا حکمِ شرعی تو بیان نہیں کیا جاسکتا، البتہ اصولی حکم یہ ہے کہ سائل نے والد ِ مرحوم کے فنڈ سے جو کاروبار شروع کردیا تھا اور وہ سائل اور اس کے دیگر بھائیوں کی محنت کے نتیجے میں جتنا بڑھ چکا ہے یا اس سے پراپرٹی وغیرہ خریدی گئی ہے وہ سب مرحوم کا ترکہ کہلائیگاجو سائل سمیت تمام ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق تقسیم ہوگا، اور اس دوران شرکاء نے باہمی رضامندی سے جو رقم اجتماعی امور اور شادی بیاہ وغیرہ میں خرچ کی ہے، اگر تمام ورثاء کی اجازت و رضامندی سے ہو تو یہ تبرع و احسان شمار ہوگا، اسے کسی شریک کے حصہ سے منہا کرنا جائز نہ ہوگا،البتہ سائل نے اس کاروبار سے نکلنے کے بعد اگر ذاتی حیثیت میں کام کرتے ہوئے کوئی جائیداد بنائی ہو تو وہ اس کی ذاتی ملکیت شمار ہوگی اور سائل کے دیگر بھائیوں کا اس میں حصہ داری کا مطالبہ کرنا جائز نہ ہوگا، تاہم سائل کے سفری اخراجات میں جن بھائیوں نے اسے رقم دی تھی اگر وہ بطورِ قرض دی ہو تو وہ اس قدر رقم کا مطالبہ کرسکتے ہیں، لیکن اس قرض کی وجہ سے دیگر اموال میں شراکت داری کا مطالبہ کرنا جائز نہیں، اس سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی العقود الدریۃ: (سئل) في إخوة خمسة ‌تلقوا ‌تركة عن أبيهم فأخذوا في الاكتساب والعمل فيها جملة كل على قدر استطاعته في مدة معلومة وحصل ربح في المدة وورد على الشركة غرامة دفعوها من المال فهل تكون الشركة وما حصلوا بالاكتساب بينهم سوية وإن اختلفوا في العمل والرأي كثرة وصوابا؟ (الجواب) : نعم إذ كل واحد منهم يعمل لنفسه وإخوته على وجه الشركة وأجاب الخير الرملي بقوله هو بينهما سوية حيث لا يميز كسب هذا من كسب هذا ولا يختص أحدهما به ولا بزيادة على الآخر إذ التفاوت ساقط إلخ(کتاب الشرکۃ، شرکۃ العنان، ج: 1، ص: 93، ط: مکتبۃ حقانیۃ)۔
وفی العقودالدریۃ: (أقول) وفی الفتاوی الخیریۃ: سئل فی ابن کبیر ذی زوجۃ وعیال لہ کسب مستقل حصل بسببہ أموالا ومات ھل ھی لوالدہ خاصۃ أم تقسم بین ورثتہ أجاب ھی للابن تقسم بین ورثتہ علی فرائض اللہ تعالی حیث کان لہ کسب مستقل بنفسہ، وأما قول علمائنا أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء ثم اجتمع لهما مال يكون كله للأب إذا كان الابن في عياله فهو مشروط كما يعلم من عباراتهم بشروط منها اتحاد الصنعة وعدم مال سابق لهما وكون الابن في عيال أبيه فإذا عدم واحد منها لا يكون كسب الابن للأب وانظر إلى ما عللوا به المسألة من قولهم؛ لأن الابن إذا كان في عيال الأب يكون معينا له فيما يضع فمدار الحكم على ثبوت كونه معينا له فيه فاعلم ذلك إلخ(کتاب الدعوی، ج: 2، ص: 17، ط: مکتبۃ حقانیۃ)۔
وفی العقود أیضاً: و المتبرع لایرجع بما تبرع بہ علی غیرہ کما لو قضی دین غیرہ بغیر أمرہ۔إلخ( کتاب المداینات، ج: 2، ص: 248، ط: مکتبہ حقانیۃ )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق شیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82860کی تصدیق کریں
0     37
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات