گناہ و ناجائز

تنہا سفر کی وجہ سے والد کا بیٹی کو یونیورسٹی جانے سے روکنا

فتوی نمبر :
82904
| تاریخ :
2025-05-21
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

تنہا سفر کی وجہ سے والد کا بیٹی کو یونیورسٹی جانے سے روکنا

میں ایک یونیورسٹی میں بیچلرز ڈگری کے دوسرے سال کی طالبہ ہوں، میرے داخلے کے بعد سے ہی میرے والد میرے یونیورسٹی جانے سے کافی مایوس ہیں، اور انہوں نے مجھے یونیورسٹی کیمپس میں جانے کی اجازت دینے کے لیے ہمیشہ جدوجہد کی ہے، وہ مجھے اپنے کام کے لیے روانہ ہوتے ہوئے صبح سویرے یونیورسٹی لے جاتے ہیں ،لیکن مجھے وہاں سے شام میں خود ہی گھر واپس جانا پڑتا ہے ،کیونکہ اس وقت میرے بھائی اور والد کام پر ہوتے ہیں، میری یونیورسٹی ایک ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرتی ہے، جو مجھے میرے گھر سے چند کلومیٹر دور لے جاتی ہے ،جس کی وجہ سے مجھے متبادل ٹرانسپورٹ کا انتخاب کرنا پڑتا ہے، مختلف پبلک ٹرانسپورٹ پر تنہا سفر کرنے سے میرے گھر والے مستقل گہری فکر میں رہتے ہیں، اور مجھے یونیورسٹی سے باہر منتقل کرنا چاہتے ہیں، میرے دوسرے سال کے اختتام پر میرے پاس کسی اور یونیورسٹی میں منتقل ہونے کا اختیار ہوگا، جن میں سے ایک یونیورسٹی جو آن لائن کے ذریعے معیاری تعلیم فراہم کرتی ہے ،جہاں مجھے صرف امتحانات اور عملی لیب ورکس کے لیے کیمپس جانا ہوگا،جب میں گھر سے باہر ہوں تو میں پردہ کے معاملہ میں مکمل مذہبی ضابطے کا مشاہدہ کرتی ہوں ،جس میں نقاب بھی شامل ہے ،لیکن شہر کے خطرات پر غور کرتے ہوئے میرے والد اور بھائی بھی نہیں چاہتے کہ میں خود یونیورسٹی جاؤں، اور وہ مجھے ایسی یونیورسٹی میں منتقل کرنا چاہتے ہیں، جو اسی طرح کے نصاب کے لیے آن لائن سیکھنے کی سہولت فراہم کرتی ہے،اگر میں اپنی موجودہ یونیورسٹی سے NOC(No objection certificate)سرٹیفکیٹ حاصل کرتی ہوں تو مجھے آنلائن یونیورسٹی کے تیسرے سال میں داخلے کی پیشکش کی جائے گی، ان شاءاللہ میری یونیورسٹی کی پالیسی صرف ضروری مشکلات کی بنیاد پر ایسی درخواستوں کو قبول کرتی ہے،میں جاننا چاہوں گی کہ کیا میرے والد کی سنگین تشویش اور تنہا سفر کرنے والی لڑکیوں کے لیے شہر کے خطرناک ماحول کو دیکھتے ہوئے قرآنی تعلیمات کی نظر میں میری منتقلی کی دلیل کی تائید ہوتی ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جی ہاں! سائلہ کے والدین اور گھر والوں کی سائلہ کے بارے میں تشویش، باہر کے حالات کا خواتین کیلئے شرعی اور معاشرتی طور پر سازگار نہ ہونا سائلہ کا موجود یونیورسٹی سے آنلائن تعلیم میسر کرنے والی یونیورسٹی کی طرف منتقل ہونے اور موجود یونیورسٹی سے اس کے لیے N.O.C لینے کے لیے کافی دلیل ہے، اور سائلہ کا ایسا اقدام شرعاً جائز ہونے کے ساتھ اس کی دینداری کی علامت ہونے کی وجہ سے مستحسن ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحیح البخاری: سمعت أبا عمرو الشیبانی یقول أخبرنا صاحب ھذہ الدار وأومأ بیدہ الی دار عبد اللہ رضی اللہ عنہ قال سألت النبیﷺ أی العمل أحب الی اللہ قال الصلاۃ علی وقتھا قال ثم أی؟ قال ثم برّ الوالدین قال ثم أی؟ قال الجھاد فی سبیل اللہ الخ ( باب ووصینا الانسان بوالدیہ، ج4، ص 2666، ط: بشری)۔
وفی جامع الترمذی:عن عبد اللہ بن عمرو عن النبیﷺ قال رضا الرب فی رضا الوالد وسخط الرب فی سخط الوالد الخ ( باب فضل فی رضا الوالد، ج2، ص 689، ط: بشری)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
انعام اللہ حمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82904کی تصدیق کریں
0     458
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات